<iframe width="560" height="500" src="https://www.youtube.com/embed/0XXUxROk1Dg?si=oJg8WZCy86GmG0lU" title="YouTube video player" frameborder="0" allow="accelerometer; autoplay; clipboard-write; encrypted-media; gyroscope; picture-in-picture; web-share" referrerpolicy="strict-origin-when-cross-origin" allowfullscreen></iframe>
پاکستان کے معاشی منظر نامے میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس کا آغاز نئے اقدام سے ہوا ہے جس کا مقصد ایک لاکھ (100,000) ابھرتے ہوئے کاروباری افراد (Entrepreneurs) کو بااختیار بنانا ہے۔
نیشنل ڈائریکٹر فار جنریشن زی انٹرپرینیورشپ انیشیٹوز عائشہ زمان نے ’پاکستان میٹرز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ یہ پروگرام روایتی مالی امداد کے ماڈل سے ہٹ کر کام کر رہا ہے۔ اس کی توجہ منظم تربیت، ماہرانہ رہنمائی (Mentorship) اور اعلیٰ درجے کی عملی مشاورت کے ذریعے ایک پائیدار بنیاد فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔
اگر یہ مہم کامیاب ہوتی ہے، تو یہ نہ صرف پاکستان کی معیشت کو سہارا دے گی بلکہ ایک ایسی نسل تیار کرے گی جو عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھتی ہو۔ مزید دیکھیے اس ویڈیو میں