پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ارشد ملک نے کہا کہ امریکا کی جانب سے یہ ایک ایسی جنگ رہی جو میدان کے بجائے زیادہ تر ٹویٹس اور میڈیا کے ذریعے لڑی گئی، جب کہ تاریخ گواہ ہے کہ بڑی طاقتیں بھی صرف فوجی قوت کے ذریعے کامیاب نہیں ہوئیں۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ویتنام جنگ، افغانستان اور لبنان جیسے تنازعات میں مکمل کامیابی حاصل نہیں کر سکا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ جنگیں محض طاقت سے نہیں جیتی جاتیں۔
ریٹائرڈ ایئر مارشل کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ممکنہ جنگ کی صورت میں ایران کے انفراسٹرکچر، توانائی کے مراکز اور شہری علاقوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ ایران کی جوابی کارروائیاں خلیجی ممالک تک پھیل سکتی ہیں، جس سے پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔







