موناکو نے پاکستانی شہریوں سمیت دنیا بھر سے آنے والے افراد کے لیے مستقل رہائش کے دروازے کھول دیے ہیں۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اس فیصلے کے تحت اب مالی طور پر مستحکم افراد کچھ شرائط پوری کر کے اس یورپی ریاست میں مستقل سکونت اختیار کر سکتے ہیں۔

موناکو ایک چھوٹا مگر خوشحال ملک ہے جو فرانس کے ساحل پر واقع ہے۔ یہاں ذاتی آمدنی، سرمایہ، جائیداد یا وراثت پر ٹیکس نہیں لگایا جاتا۔

یہی وجہ ہے کہ یہ ملک دنیا کے امیر افراد کے لیے خاص کشش رکھتا ہے۔ شینگن زون میں شامل ہونے کی وجہ سے یہاں سے یورپ کے 26 ممالک کا آزادانہ سفر بھی ممکن ہے۔

موناکو کا رہائشی کارڈ پہلے ایک سال کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اس کی مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے۔ 10 سال تک مسلسل قیام کے بعد 10 سال کا پرولیجڈ ریزیڈنس کارڈ جاری کیا جاتا ہے جسے مزید بڑھایا جا سکتا ہے۔

اس رہائش کے لیے چند بنیادی شرائط ہیں۔ درخواست دہندہ کی عمر 16 سال سے زیادہ ہو، پولیس ریکارڈ صاف ہو، درست پاسپورٹ موجود ہو، صحت کا بیمہ ہو اور موناکو میں رہائش کے لیے مناسب جگہ ہو۔

مالی حیثیت ثابت کرنا اس عمل کا اہم حصہ ہے۔ درخواست دہندہ کو کم از کم پانچ لاکھ یورو یعنی لگ بھگ سولہ کروڑ 52  لاکھ پاکستانی روپے کا ثبوت دینا ہوتا ہے۔ یہ رقم بینک ڈپازٹ یا دیگر مالیاتی دستاویزات کی صورت میں دکھائی جا سکتی ہے۔


غیر یورپی ممالک کے شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے فرانسیسی قونصلیٹ سے طویل قیام کا ویزا حاصل کریں۔ اس کے بعد موناکو میں انٹرویو کے مرحلے سے گزرنا ہوتا ہے جس میں تقریباً اسی یورو فیس بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔

درخواست کے عمل میں ایک مقامی مشیر یا ایڈوائزر کی مدد لینا اہم سمجھا جاتا ہے تاکہ تمام دستاویزات درست طریقے سے تیار ہوں۔ ان میں پاسپورٹ، ویزا، نیا پیدائش سرٹیفکیٹ، پولیس کلیئرنس اور دیگر متعلقہ کاغذات شامل ہوتے ہیں۔

واضح رہے کہ رہائشی اجازت نامہ صرف قیام کا حق دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص موناکو میں کام کرنا چاہے تو اسے علیحدہ ورک پرمٹ حاصل کرنا ہوگا۔

حکام کے مطابق قوانین اور مالی تقاضے وقت کے ساتھ بدل سکتے ہیں۔ اس لیے درخواست دینے سے قبل موناکو کی سرکاری ویب سائٹ سے تازہ ترین معلومات حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ کسی قسم کی قانونی رکاوٹ پیش نہ آئے۔