پولیس کے مطابق والدہ نے شکایت درج کروائی تھی کہ ان کی بیٹی سوشل میڈیا پر بطور لڑکا ویڈیوز بنا کر اپ لوڈ کرتی ہے، جس سے خاندان اور معاشرے میں منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
والدہ نے بتایا کہ بارہا سمجھانے کے باوجود بیٹی نے اس عمل سے باز نہیں آئی، جس پر مجبورا ً تھانے میں رپورٹ درج کرانا پڑی۔
لیوی فورس نے کارروائی کرتے ہوئے لڑکی کو حراست میں لے کر تھانہ کوٹ منتقل کیا، جہاں ابتدائی تفتیش کے بعد اسے جیل بھیج دیا گیا۔
مزید پڑھیں: جماعتِ اسلامی اور پی ٹی آئی کے کارکنان آمنے سامنے، اصل معاملہ کیا ہے؟
ذرائع کے مطابق بعد ازاں والدہ کی منت سماجت، آئندہ سوشل میڈیا استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی اور تحریری معاہدے کے بعد لیوی حکام نے لڑکی کو ضمانت پر رہا کردیا۔
تحقیقات کے دوران لڑکی نے اعتراف کیا کہ وہ تفریح کے مقصد سے ٹک ٹاک پر لڑکے کا روپ دھارتی تھی اور کسی کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
پولیس نے والدین اور نوجوانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنائیں تاکہ ایسی سرگرمیوں سے معاشرتی اقدار اور روایات متاثر نہ ہوں۔






