اس نقشے میں روس کے لیے وودکا لکھا گیا، کیونکہ مغرب روس کو سخت سردی، سخت مزاج لوگوں اور شراب نوشی سے جوڑتا ہے۔ منگولیا کے بارے میں گلے سے گانا کا ذکر کیا گیا، جو وہاں کی قدیم موسیقی کی روایت ہے۔ چین کو اجتماعی نگرانی کہا گیا کیونکہ وہاں حکومتی کنٹرول اور نگرانی کا تاثر عام ہے۔
شمالی کوریا کے لیے ایٹم بم اور جنوبی کوریا کے لیے کے پاپ لکھا گیا یعنی ایک ملک کو خوف کی علامت، دوسرے کو عالمی موسیقی کا رجحان قرار دیا۔اس طرح جاپان کو انیمے سے پہچانا گیا، کیونکہ جاپانی کارٹونز امریکی نوجوانوں میں بے حد مقبول ہیں۔
دوسرے ممالک کے بارے میں بھی دلچسپ انداز اختیار کیا گیا۔ افغانستان کو پابندی زدہ طالبان کہا گیا، ایران اور سعودی عرب دونوں کے لیے اسلام کا مرکز اور متحدہ عرب امارات کے لیے روایتی دبئی لکھا گیا۔
قطر کو غیر ملکی ملازمین، عراق کو صدام حسین، مصر کو اہرامِ مصر، انڈونیشیا کو جزیروں اور ملائیشیا کو میڈ اِن ملائیشیا کے طور پر پیش کیا گیا۔
نقشے میں انڈیا کو پاگل ٹریفک کہا گیا، جو وہاں کی بے ہنگم آبادی اور شور وغل کی طرف اشارہ کرتا ہے، جب کہ پاکستان کے لیے حیران کن طور پر Nice People یعنی اچھے لوگ لکھا گیا۔یہ وہ لمحہ تھا جس نے پاکستانیوں کو خوش کر دیا۔
کئی صارفین نے فخر سے کہا کہ دنیا کا نظریہ پاکستان کے بارے میں بدل رہا ہے۔ ایک پاکستانی صارف نے تبصرہ کیا کہ میں امریکہ میں رہتا ہوں اور میں نے یہ تبدیلی خود محسوس کی ہے۔ لوگ اب پاکستان کا ذکر احترام سے کرتے ہیں اور یہ ہمارے اخلاق و برتاؤ کا نتیجہ ہے۔
کئی پاکستانیوں نے اس پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ یہ تبدیلی بتاتی ہے کہ اب دنیا میں پاکستان سے متعلق نظریہ بدل رہا ہے۔ ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ “پاکستان کی ساکھ دنیا میں بہتر ہو رہی ہے، یہ دیکھ کر دل خوش ہو گیا.
بہت سے پاکستانیوں نے بیرونِ ملک اپنے تجربات شیئر کیے۔ ایک شخص نے لکھا کہ وہ آئرلینڈ میں رہتے ہیں اور کل انہیں ایک شخص نے پوچھا کہ کیا آپ پاکستانی ہیں، جب انہوں نے ہاں کہا تو اس نے کہا کہ جتنے پاکستانیوں سے ملا ہوں وہ سب بہت اچھے اور محنتی ہیں۔
اُس صارف کے مطابق ان کے ان الفاظ نے اُن کا دن بنا دیا۔ اسی طرح ایک اور صارف نے لکھا کہ وہ کینیڈا میں رہتے ہیں اور وہاں بھی پاکستان کے بارے میں مثبت جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔ لوگ پاکستانیوں کو مہمان نواز اور مددگار سمجھتے ہیں اور یہ تاثر ہم نے اپنے رویے اور برتاؤ سے مضبوط کیا ہے۔
ایک دلچسپ تبصرہ ایک امریکی شہری کا بھی سامنے آیا جس نے لکھا کہ پاکستان کے بارے میں دو چیزوں نے امریکیوں کا نظریہ بدلا ہے پہلی ایک امریکی خاتون اونیجہ رابنسن جو پاکستان جا کر مشہور ہوئیں اور جن کا جملہ ہائے شبانہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔
دوسری چیز ٹریول بلاگرز ہیں جنہوں نے پاکستان کے مثبت پہلو دنیا کو دکھائے ہیں، اس نے مزید کہا کہ وہ خود ایک پاکستانی نژاد امریکی ہیں اور یہ تبدیلی وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
ایک صارف نے لکھا کہ انہوں نے حال ہی میں امریکہ کا سفر کیا۔ ایئرپورٹ پر سیکیورٹی اہلکاروں نے ان سے خوش اخلاقی سے بات کی، یہاں تک اُن سے کہا کہ اُن کے پاکستانی دوست بہت اچھے ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ انہیں حیرت تھی کہ کہیں دہشت گردی یا بن لادن سے متعلق کوئی تبصرہ نہ ہو، مگر خوش قسمتی سے ایسا کچھ نہیں ہوا۔ یہ رویہ اُن کے لیے خوشگوار تھا۔
ایک اور پاکستانی نے تبصرہ کیا کہ 2000 سے لے کر 2010 تک کا وقت پاکستانیوں کے لیے بہت مشکل تھا۔ ہر خبر میں پاکستان کا نام دہشت گردی سے جوڑا جاتا تھا۔ اب یہ دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ دنیا پاکستانیوں کو مثبت انداز میں دیکھنے لگی ہے۔
واضح رہے کہ ریڈیٹ جیسے پلیٹ فارم پر ایسے تبصرے عام طور پر جلد دب جاتے ہیں، مگر Nice People کے یہ دو لفظ پاکستانیوں کے لیے فخر کا باعث بن گئے۔ اس نے دکھایا کہ برسوں کی غلط فہمیوں، میڈیا کے تعصبات اور سیاسی تنازعات کے باوجود پاکستانیوں کی مہمان نوازی، خلوص اور مثبت رویے آہستہ آہستہ دنیا کے دل جیت رہے ہیں۔






