ذرائع کے مطابق ڈکی بھائی کو جیل کے پچھلے گیٹ سے گاڑی میں بٹھا کر روانہ کیا گیا، جہاں ان کے اہلِ خانہ اور قریبی دوست بھی موجود تھے۔ گزشتہ روز بروقت روبکار جاری نہ ہونے کی وجہ سے انہیں رہا نہیں کیا جا سکا تھا۔

یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے پیر کے روز جوئے کی ایپس کی تشہیر سے متعلق مقدمے میں ڈکی بھائی کی درخواستِ ضمانت 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی تھی۔ سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ایسے کیسز میں ضمانت نہ دینا ’’غیر معمولی‘‘ بات ہوگی۔

آج جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم بھٹو نے رہائی کا حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈکی بھائی کسی اور کیس میں مطلوب نہیں تو انہیں فوراً رہا کیا جائے۔ اس سلسلے میں سپرنٹنڈنٹ کیمپ جیل کو باضابطہ روبکار بھی ارسال کی گئی۔

ڈکی بھائی کو اگست 2025 میں لاہور ایئرپورٹ سے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) ونگ نے آن لائن جوا فروغ دینے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ ان کے خلاف درج مقدمے کی تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

رہائی کے موقع پر خاندان کے افراد اور دوستوں نے ان کا خیر مقدم کیا جبکہ یوٹیوبر کے مداحوں نے بھی سوشل میڈیا پر ان کی رہائی پر بھرپور ردِعمل دیا۔