ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران بوبی دیول نے انکشاف کیا کہ انہیں کئی برسوں تک کام کے مواقع نہیں ملے، جس کے باعث انہیں طویل عرصہ گھر پر رہنا پڑا۔ اداکار کے مطابق 2010 کی دہائی ان کے لیے نہایت مایوس کن ثابت ہوئی اور وہ خود فلم سازوں اور ہدایتکاروں سے رابطہ کر کے کام مانگتے تھے۔

بوبی دیول نے بتایا، میں کہتا تھا، میں بوبی دیول ہوں، براہِ کرم مجھے کام دیں۔ اس میں شرم کی کوئی بات نہیں، کم از کم وہ یاد رکھیں گے کہ بوبی دیول اُن سے ملنے آیا تھا۔

اداکار نے بتایا کہ اس دوران ان کے بیٹے کے ایک سادہ سے جملے نے انہیں دوبارہ حوصلہ دیا اور وہ ایک بار پھر کام کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔

 بوبی کا کہنا تھا کہ  زندگی میں ایک وقت ایسا آیا جب میں نے ہار مان لی تھی، لیکن اندر کی آواز نے یاد دلایا کہ میرے اندر ابھی بھی وہ صلاحیت موجود ہے۔

یاد رہے کہ بوبی دیول نے 1995 میں فلم ’برسات‘ سے فلمی کیریئر کا آغاز کیا اور ’سولجر‘، ’بادل‘، ’بِچھو‘ اور ’اجنبی‘ جیسی فلموں سے شہرت حاصل کی۔ تاہم بعد کے برسوں میں انہیں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کی شاندار واپسی ویب سیریز ’آشرم‘ سے ہوئی، جس کے بعد فلم ’اینمل‘ میں ان کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا۔ حال ہی میں بوبی دیول آریان خان کی سیریز ’دی باسٹرڈز آف بالی وُڈ‘ میں بھی جلوہ گر ہوئے ہیں۔