انڈین خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق، فلم کی کہانی 1984 کے معروف شاہ بانو بیگم بمقابلہ محمد احمد خان کیس سے متاثر ہے، اور اب شاہ بانو کی بیٹی صدیقہ بیگم خان نے اندور بینچ میں درخواست جمع کراتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ فلم ان کے خاندان کی اجازت کے بغیر بنائی گئی۔

درخواست میں کہا گیا کہ فلم میں شاہ بانو کی نجی زندگی کے کئی واقعات کو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے، جس سے خاندان کی عزت و ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ عدالت نے درخواست پر سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

فلم کی ٹیم کا کہنا ہے کہ کہانی ’مذکورہ کیس سے متاثر‘ ضرور ہے مگر یہ کسی حقیقی واقعے پر مبنی بایوپک نہیں بلکہ ایک ڈرامائی فلم ہے، اور اس حوالے سے فلم میں وضاحتی نوٹ بھی شامل کیا گیا ہے۔


فلم سات نومبر کو ریلیز کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے ٹریلر کے بعد سوشل میڈیا پر فلم پر مسلمانوں کے عقائد، شادی اور طلاق کے قوانین کو مسخ کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

اداکار عمران ہاشمی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ فلم کسی مذہب یا عقیدے کے خلاف نہیں بلکہ ایک سماجی اور عدالتی پس منظر رکھنے والی کہانی ہے۔

فلم میں عمران ہاشمی ایک شوہر اور یمی گوتم ان کی اہلیہ کا کردار ادا کر رہی ہیں، جب کہ کہانی شادی، طلاق اور نان و نفقہ کے تنازع کے گرد گھومتی ہے۔

ٹر یلر سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ فلم میں مسلمان مردوں کے رویے اور مذہبی قوانین پر تنقیدی مؤقف پیش کیا گیا ہے، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے۔