انڈین میڈیا کے مطابق  اداکار کو بریچ کینڈی اسپتال ممبئی سے واپس آنے کے بعد لائف سپورٹ پر رکھا گیا تھا۔ حالیہ دنوں میں ان کی صحت کے خراب ہونے کی افواہیں گردش کر رہی تھیں اور اب متعدد انڈین تفریحی ذرائع نے ان کے انتقال کی تصدیق کر دی ہے۔

دھرمیندر انڈین سینما میں “ہي مین” کے نام سے مشہور تھے، انہوں نے چھ دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط شاندار کیریئر بنایا۔ وہ 1960 کی دہائی کے اوائل میں شہرت کے اعلیٰ مقام تک پہنچے اور بالی وڈ کے سب سے معتبر اور ہمہ جہت اداکاروں میں شمار ہوئے۔

ان کی فلموں میں شعلے، چپکے چپکے، انوپما، اور ستیہ کام شامل ہیں، جن میں انہوں نے ایکسشن اور ہلکی پھلکی دونوں نوعیت کے کردار بخوبی نبھائے۔ ان کی کاریگری، اسکرین پر قوت اور دیرپا مقبولیت نے کئی نسلوں پر گہرا اثر چھوڑا۔

مزید پڑھیں:  آپ کے گھر میں ماں باپ ہیں، بچے ہیں، تم لوگوں کو شرم نہیں آتی ، سنی دیول میڈیا پر برس پڑے

دھرمیندر نہ صرف اپنے کام کے لیے جانے جاتے تھے بلکہ اپنی سادگی اور مداحوں سے گہرا تعلق کے لیے بھی مشہور تھے۔ ان کا خاندان فلمی صنعت سے دہائیوں سے وابستہ رہا ہے اور ان کے بچے بھی ان کی سینمایی میراث کو آگے بڑھا رہے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق دھرمیندر کی آخری رسومات پوان ہانس کریمیٹریم میں ادا کی جا رہی ہیں۔ ملک بھر کے مداح، ساتھی اداکار اور اہم شخصیات ان کے انتقال پر غم کا اظہار اور خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ دھرمیندر کی اداکاری، اثر و رسوخ اور لیجنڈری شخصیت ہندی سینما کی تاریخ کا لازمی حصہ بنی ہوئی ہے۔

مشہور فلم ساز کرن جوہر نے بھی انسٹاگرام پر دھرمیندر کی وفات کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کا انتقال بھارتی فلم انڈسٹری کا بڑا نقصان ہے۔


واضع رہے کہ بھارتی میڈیا کے مطابق دھرمیندر کو دو ہفتے قبل سانس لینے میں دشواری کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جب کہ رواں سال اپریل میں ان کی آنکھ کی سرجری بھی ہوئی تھی۔