برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت اس مالی خلا کو پُر کرنے کے لیے مختلف ذرائع تلاش کر رہی ہے، جب کہ سعودی عرب سے ممکنہ مالی تعاون بھی زیر غور ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے معاشی اثرات نے پاکستان کو اپنی توانائی حکمت عملی پر نظرثانی پر مجبور کر دیا ہے۔ پاکستان کو اس وقت اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو قائم کرنے اور قابلِ تجدید توانائی کی جانب تیزی سے منتقل ہونے کی ضرورت ہے۔
وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ پاکستان اس ماہ متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کا قرض واپس کرے گا، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے اور عالمی مالیاتی فنڈ پروگرام کے اہداف متاثر ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان کے زرِمبادلہ ذخائر تقریباً 2.8 ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں اور اس سطح کو برقرار رکھنا ملکی معیشت کے استحکام کے لیے نہایت اہم ہے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت یورو بانڈ، اسلامی سکوک اور ڈالر میں سیٹل ہونے والے روپے سے منسلک بانڈز کے اجرا پر بھی غور کر رہی ہے، جب کہ رواں سال یورو بانڈ جاری کرنے کی توقع ہے۔ اس کے علاوہ کمرشل قرضوں کے حصول کے امکانات بھی زیرِ غور ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے ابھی تک آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام میں کسی تبدیلی کی درخواست نہیں کی، تاہم مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے پیش نظر مستقبل میں اس پر بات ہو سکتی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف بورڈ رواں ماہ کے آخر یا اگلے ماہ کے آغاز میں نئی قسط کی منظوری دے سکتا ہے، جس کے تحت پاکستان کو تقریباً 1.3 ارب ڈالر ملیں گے۔
مزید پڑھیں: ’ پٹرولیم لیوی غیر قانونی‘، حکومت کو کم از کم 200 روپے فی لیٹر کمی کرنی چاہیے، حافظ نعیم الرحمان
انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ پاکستان آئندہ ماہ اپنا پہلا پانڈا بانڈ جاری کرنے جا رہا ہے، جو چینی کرنسی یوآن میں ہوگا۔ 250 ملین ڈالر کے اس ابتدائی اجرا کو ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی حمایت حاصل ہوگی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی معیشت رواں مالی سال کے اختتام تک تقریباً 4 فیصد شرح نمو، 41.5 ارب ڈالر ترسیلات زر اور کمزور طبقات کے لیے ہدفی امداد کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات کا مقابلہ کر سکتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں پاکستان کو فوری طور پر اسٹریٹیجک ایندھن ذخائر بنانے اور متبادل توانائی ذرائع کی جانب تیزی سے پیش رفت کرنا ہوگی۔






