کمپنی کے اعلامیے کے مطابق او جی ڈی سی، جو بوبی اور دھمراکی مائننگ لیز میں 100 فیصد حصے کی مالک ہے، نے کامیاب آزمائشی پیداوار کے دوران ہائیڈروکاربن کے قابلِ ذکر ذخائر دریافت کیے ہیں۔

اعلامیے کے مطابق ابتدائی ٹیسٹ کے دوران کنویں سے یومیہ تقریباً 2,000 بیرل خام تیل اور 1.1 ملین معیاری مکعب فٹ گیس حاصل ہوئی، جبکہ ویل ہیڈ فلوئنگ پریشر 1,050 پی ایس آئی ریکارڈ کیا گیا۔

او جی ڈی سی کے مطابق ’’بوبی ڈیپ-1‘‘ کنواں 3,305 میٹر گہرائی تک سیمبر فارمیشن میں کھودا گیا، جس کے لیے کمپنی نے اپنی تکنیکی اور آپریشنل صلاحیتوں کو استعمال کیا۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ دریافت بوبی اور دھمراکی مائننگ لیز کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے اور اس سے ملک میں توانائی کے مقامی وسائل کے استعمال کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ او جی ڈی سی کے ذخائر اور قومی سطح پر ہائیڈروکاربن وسائل میں بھی اضافہ ہوگا۔

تیل و گیس کے شعبے کے ماہر فرحان محمود کے مطابق موجودہ مالی سال کے دوران پاکستان میں تقریباً 24 ہزار بیرل خام تیل کے نئے ذخائر دریافت کیے گئے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ کسی ذخیرے کی دریافت اور اس سے باقاعدہ تجارتی پیداوار شروع ہونا دو الگ مراحل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ موجودہ مالی سال میں دریافت کیے گئے 24 ہزار بیرل خام تیل میں سے اب تک صرف تقریباً 2 ہزار بیرل یومیہ پیداوار حاصل ہو رہی ہے۔

فرحان محمود کے مطابق توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں، سکیورٹی مسائل اور درآمدی ایل این جی پر انحصار جیسے عوامل نے مقامی تیل و گیس کی پیداوار میں اضافے کی رفتار کو متاثر کیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کو روزانہ تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار بیرل خام تیل درکار ہوتا ہے، جبکہ مقامی سطح پر صرف 70 ہزار بیرل یومیہ خام تیل پیدا کیا جاتا ہے، جس کے باعث ملک کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑی مقدار میں تیل درآمد کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر اس نئے ذخیرے سے تجارتی بنیادوں پر پیداوار شروع ہو جاتی ہے تو یہ پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کی جانب ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔