ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے لاہور چیمبر کی تجاویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری کے مسائل اجاگر کرنے میں چیمبرز اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ڈائریکٹر جنرل ٹیکس پالیسی آفس ڈاکٹر نجیب احمد میمن کو ہدایت کی کہ ان تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو  میں ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ انسانی مداخلت کم ہو، ٹیکس دہندگان کو سہولت ملے اور کاروباری ماحول بہتر بنایا جا سکے۔ حکومت معاشی پالیسی سازی میں کاروباری برادری سے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

لاہور چیمبر کی تجاویز میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بار بار ایس آر اوز کے اجرا اور ٹیکس قوانین کی مختلف تشریحات سے پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے، جس کے باعث صنعتیں متاثر اور ڈی انڈسٹریلائزیشن میں اضافہ ہو رہا ہے۔

چیمبر نے مطالبہ کیا کہ خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں زیادہ کاروباری لاگت کو کم کیا جائے۔


چیمبر نے مختلف صنعتوں کے لیے علیحدہ ٹیرف اسٹرکچر، برآمد کنندگان کے لیے سادہ فائنل ٹیکس رجیم کی بحالی اور تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس نظام متعارف کرانے کی سفارش بھی کی تاکہ ٹیکس نیٹ کو وسعت دی جا سکے۔

بجٹ تجاویز میں ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی، کم منافع والے شعبوں کے لیے ٹیکس قوانین میں نرمی، ایڈوانس ٹیکسز کے خاتمے، فاٹا اور پاٹا سمیت تمام علاقوں میں یکساں ٹیکس نظام نافذ کرنے اور ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کی مؤثر نگرانی کے لیے ریئل ٹائم ڈیٹا شیئرنگ کا مطالبہ بھی شامل تھا۔

لاہور چیمبر نے آئی ٹی اور ڈیجیٹل سروسز کے فروغ، ووکیشنل ٹریننگ پروگرامز، تھرڈ کنٹری ٹریڈ کی سہولت اور پیک شدہ ڈیری و گوشت کی مصنوعات پر 18 فیصد سیلز ٹیکس ختم کرنے کی تجاویز بھی پیش کیں۔

صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مسلسل رابطہ اور مشاورت ہی صنعتی ترقی، کاروباری اعتماد اور پائیدار معاشی استحکام کی ضمانت بن سکتی ہے۔