جمعرات کو انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری روز کے آغاز پر روپے کی قدر میں بہتری دیکھی گئی۔

خبر رساں اشاعتی ادارے بزنس ریکارڈر کے مطابق صبح دس بجے کے قریب امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 23 پیسے بہتری کے ساتھ 281 روپے 20 پیسے پر ٹریڈ ہوا۔ بدھ کے روز کاروبار کے اختتام پر ڈالر 281 روپے 43 پیسے پر بند ہوا تھا۔

عالمی سطح پر امریکی ڈالر میں استحکام دیکھا گیا۔ سرمایہ کار امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے مستقبل کی پالیسیوں کا محتاط جائزہ لے رہے ہیں۔ اس وقت سرمایہ کار شرح سود میں ممکنہ کمی کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔ موجودہ صورت حال میں مہنگائی اور مزدوری سے متعلق آنے والے اعداد و شمار کو فیصلہ کن سمجھا جا رہا ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق رواں سال باقی دو اجلاسوں کے دوران تقریباً 43 بیسس پوائنٹس کی ممکنہ کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاہم امریکی مرکزی بینک کے چیئرمین جیروم پاول اور دیگر عہدیداروں کے حالیہ بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کوئی بھی حتمی فیصلہ آنے والے اقتصادی اعداد و شمار پر منحصر ہوگا۔

فیڈ کی جانب سے پچھلے ہفتے شرح سود میں معمولی کمی کے بعد امریکی ڈالر میں بتدریج استحکام آیا ہے۔ یورو گزشتہ ٹریڈنگ سیشن میں 0.6 فیصد کمی کے بعد 1.17425 ڈالر پر ریکارڈ کیا گیا جبکہ برطانوی پاؤنڈ 1.3451 ڈالر پر معمولی رد و بدل کے ساتھ برقرار رہا۔

Featured image (3) (34)
عالمی سطح پر امریکی ڈالر میں استحکام دیکھا گیا۔ (تصویر: وی او اے)

ڈالر انڈیکس 97.813 کی سطح پر موجود ہے جو گزشتہ تین ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب ہے اور موجودہ ماہ کے دوران معمولی فائدے کی پوزیشن میں ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق روپے کی حالیہ بہتری کا تعلق عالمی مالیاتی منڈی میں ڈالر کی موجودہ صورتحال اور ملکی سطح پر زرمبادلہ کی دستیابی سے بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم، اس حوالے سے اسٹیٹ بینک یا وزارت خزانہ کی جانب سے کوئی سرکاری بیان تاحال سامنے نہیں آیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں روپے کی قدر کا انحصار عالمی مالیاتی پالیسیوں، مہنگائی کی شرح، درآمدات اور برآمدات کی صورتحال سمیت دیگر اقتصادی عوامل پر ہوگا۔