یہ سیمینار جامعہ کراچی کے شعبہ فوڈ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، نیوٹریشن انٹرنیشنل اور سندھ فوڈ اتھارٹی کے اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس میں خوردنی تیل و چکنائی کی 30 سے زائد صنعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
صوبائی وزیر خوراک سندھ مخدوم محبوب الزماں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صنعتی ٹرانس فیٹس جیسے سنگین عوامی صحت کے مسئلے پر یہ اقدام نہایت اہم ہے اور یہ صرف آگاہی نہیں بلکہ پالیسی سے عملی نفاذ کی جانب ایک فیصلہ کن پیش رفت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی سفارشات کے مطابق خوراک میں ٹرانس فیٹس کو 2 فیصد سے کم سطح تک محدود کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے تحت انٹرسٹیریفکیشن، بلینڈنگ اور اولیوجیلیشن جیسے جدید طریقوں کے ساتھ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (SOPs) بھی تیار کیے گئے ہیں، تاکہ صنعت کو مرحلہ وار پارشیلی ہائیڈروجنیٹڈ آئلز سے دور لے جایا جا سکے اور محفوظ متبادل اپنائے جا سکیں۔
انہوں نے زور دیا کہ اب پالیسی سازی سے آگے بڑھ کر مؤثر عملدرآمد، نگرانی اور قانون پر سختی سے عمل یقینی بنانے کا وقت ہے، جبکہ صنعت کو تکنیکی معاونت اور تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ نئی ہدایات پر عمل کر سکے۔
تقریب میں سیکریٹری خوراک سندھ غلام عباس نیچ، ڈی جی سندھ فوڈ اتھارٹی شہزاد فضل عباسی اور دیگر حکام نے بھی شرکت کی اور ریگولیٹری نظام کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرم شیخ نے صنعت پر زور دیا کہ وہ جدید ٹیکنالوجی اور SOPs کو اپناتے ہوئے ٹرانس فیٹس کے خاتمے میں فعال کردار ادا کرے، جبکہ ادارے کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی گئی۔
سیمینار کے دوران ماہرین نے بتایا کہ پاکستان میں فی کس چکنائی کا استعمال تقریباً 24 کلوگرام ہے اور عالمی سطح پر دل کی بیماریوں سے ہونے والی اموات میں ٹرانس فیٹس ایک اہم عنصر ہیں، جس کے باعث فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
تقریب میں پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کے ماہرین نے بھی تحقیق پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ کئی علاقوں میں خوردنی چکنائی میں ٹرانس فیٹس کی سطح مقررہ حد سے زیادہ ہے، جو مؤثر نگرانی اور صنعتی اصلاحات کی فوری ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔
نیوٹریشن انٹرنیشنل کے نمائندے نے اس موقع پر ملرز کے لیے ایک ٹیکنیکل سپورٹ یونٹ کے قیام کا اعلان بھی کیا، جو صنعت کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے رہنمائی فراہم کرے گا۔
تقریب کے اختتام پر ماہرین اور منتظمین کی کاوشوں کو سراہا گیا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے پاکستان میں ایک محفوظ، معیاری اور عالمی اصولوں سے ہم آہنگ خوراکی نظام تشکیل دیا جائے گا۔






