مرکزی بینک کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 23 اپریل 2026 کو ابوظہبی فنڈ برائے ترقی کو ایک ارب ڈالر کی آخری قسط ادا کی۔ اس ادائیگی کے ساتھ ہی متحدہ عرب امارات کو واپس کی جانے والی مجموعی رقم 3.45 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

اس سے قبل بھی حکام کی جانب سے گزشتہ دنوں 2.45 ارب ڈالر کی ادائیگی کی جا چکی تھی، جس کے بعد تمام واجبات کلیئر کر دیے گئے ہیں، یہ ادائیگیاں طے شدہ شیڈول کے مطابق کی گئیں اور اس عمل میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہوئی۔

اس پیش رفت سے پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر ساکھ بہتر ہونے کا امکان ہے، جبکہ دوست ممالک کے ساتھ اعتماد کی فضا مزید مضبوط ہوگی، بروقت قرضوں کی واپسی سے نہ صرف مالی نظم و ضبط کا اظہار ہوتا ہے بلکہ مستقبل میں بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات بھی روشن ہوتے ہیں۔

حکام کے مطابق حکومت اور مالیاتی ادارے بیرونی قرضوں کے بوجھ کو منظم انداز میں کم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں دوست ممالک اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات جیسے اہم شراکت دار کے ساتھ مالی معاملات کی شفاف تکمیل دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید وسعت دے سکتی ہے، جس کے مثبت اثرات تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون پر بھی مرتب ہوں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان ماضی میں مالی دباؤ کے باعث دوست ممالک سے ڈپازٹس اور امداد حاصل کرتا رہا ہے، تاہم حالیہ ادائیگیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ملک بتدریج مالی استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے۔