تین ہزار کنٹینرز کراچی کی بندرگاہ پر پھنسے ہوئے ہیں۔ ان میں کیا ہے؟ کوئی نہیں جانتا۔ لیکن اصل سوال یہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا یہ صرف کارگو ہے؟ یا ایک خاموش معاشی جنگ کا اگلا محاذ؟

کراچی بندرگاہ  پر کھڑے یہ کنٹینرز، اصل میں ایران جانے تھے اور یہ وہاں  جانے کے منتظر ہیں۔ سمندری راستے بند ہیں، امریکا کی بحری ناکہ بندی سخت ہے اور خطے میں کشیدگی نے تجارت کا پہیہ جام کر دیا ہے۔

کیا ایران اس معاشی گھٹن سے نکلنے کے لیے کوئی متبادل راستہ تلاش کر چکا ہے؟ آج کی ویڈیو میں ہم سمجھیں گے کہ ایران کیسے اس بحران سے نکل سکتا ہے۔

فروری سے شروع ہونے والی ایران-امریکا کشیدگی کے بعد، آبنائے ہرمز ایک میدانِ جنگ بن چکی ہے۔ پہلے ایران نے یہاں سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول لگایا، لیکن 13 اپریل سے امریکا نے یہاں مکمل بحری ناکہ بندی کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جنگ کے خاتمے کے لیے صدر ٹرمپ تازہ ایرانی تجویز پر ’ناخوش‘ ہیں، امریکی عہدیدار

اب صورتحال یہ ہے کہ جو جہاز ایران جانا چاہتے ہیں، وہ سمندر میں ہی پھنس گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف تیل کی تجارت کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایران کی فوڈ سیکیورٹی اور ضروری درآمدات کا سوال بھی ہے۔

ایران کے پاس ذخیرہ کرنے کی جگہ کم ہو رہی ہے اور معیشت پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

اس بحران سے نکلنے کے لیے تہران اور اسلام آباد کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ منصوبہ کیا ہے؟ ایک زمینی راستہ۔

دستاویزات کے مطابق، پاکستانی ٹرک کراچی سے سامان اٹھائیں گے اور 900 کلومیٹر طویل پاک-ایران سرحد تک پہنچائیں گے۔ وہاں سے ایرانی ٹرانسپورٹ اسے اپنی منزل تک لے جائے گی۔

ایران نے یہاں تک پیشکش کی ہے کہ اگر پاکستانی ڈرائیور سرحد پار ایران کے اندر تک جانے کو تیار ہوں، تو انہیں اضافی معاوضہ دیا جائے گا۔

یہ راستہ سمندر کے مقابلے میں سست اور مہنگا ضرور ہے، لیکن ایران کے لیے اس وقت  زندہ رہنے  کا واحد راستہ یہی دکھائی دیتا ہے۔


لیکن کیا یہ راستہ اتنا آسان ہوگا؟ نہیں۔ جنگی خطرے کی وجہ سے انشورنس کے ریٹس 0.12 فیصد سے بڑھ کر 5 فیصد تک پہنچ چکے ہیں۔ ایک بڑے جہاز کے لیے انشورنس کا خرچہ 5 ملین ڈالر تک جا سکتا ہے۔

ایران کا نقطہ نظر یہاں بالکل مختلف ہے، ایران اسے  نفع و نقصان  کے پیمانے سے نہیں دیکھ رہا۔ ان کے لیے یہ  بقا  کی جنگ ہے۔

جیسے ویتنام جنگ میں کہا گیا تھا کہ  جو فریق زیادہ دیر تک برداشت کرے گا، وہی جیتے گا ، ایران اسی فلسفے پر چل رہا ہے۔

"کراچی کی بندرگاہ پر کھڑے یہ کنٹینرز صرف سامان نہیں ہیں، یہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست کی ایک خاموش گواہی ہیں۔ کیا پاکستان کا یہ زمینی روٹ ایران کی معاشی ناکہ بندی کو توڑ سکے گا؟ یا امریکا کا دباؤ مزید بڑھے گا؟