کاروباری دن کے دوران بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس محدود دائرے میں گھومتا رہا اور بالآخر 1,174 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 169,497 کی سطح پر بند ہوا، جو 0.69 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
انٹرا ڈے میں انڈیکس 171,306 کی بلند ترین اور 169,268 کی کم ترین سطح تک گیا، جس سے محدود مگر منفی رجحان کا اظہار ہوا۔
مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ مختلف شعبوں میں دیکھا گیا، جن میں آٹو موبائل، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، اور آئل اینڈ گیس سیکٹر شامل ہیں۔ کم حجم اور محتاط سرمایہ کاری رویے نے مارکیٹ کو مزید دباؤ میں رکھا۔
KSE-100 falls 1,400 points in early trade, remains down over 600 points intraday; major stocks decline
— Profit (@Profitpk) April 27, 2026
Read: https://t.co/ln69uWMG5d pic.twitter.com/0OSWSjYiJG
دن کے اختتام پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پالیسی ریٹ میں 100 بیسس پوائنٹس اضافہ کرتے ہوئے اسے 11.50 فیصد کر دیا، جو پہلے 10.50 فیصد تھا۔
اس فیصلے نے قرض لینے کی لاگت بڑھنے اور معاشی سرگرمیوں پر ممکنہ اثرات کے خدشات کو مزید تقویت دی۔
عالمی سطح پر بھی غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا، خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے مسائل کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے نے مارکیٹ پر منفی اثر ڈالا۔
ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں مارکیٹ کا رخ عالمی حالات، خصوصاً امریکا-ایران مذاکرات اور مقامی معاشی پالیسیوں کی وضاحت پر منحصر ہوگا۔
سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ محتاط حکمت عملی اپنائیں اور خاص طور پر قرض سے حساس شعبوں میں زیادہ سرمایہ کاری سے گریز کریں۔







