خرم شہزاد کے مطابق یہ ادائیگی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ملک کے زرمبادلہ ذخائر اور لیکویڈٹی میں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں نے پاکستان کی خودمختار ریٹنگ میں بہتری کی ہے، بانڈز پریمیم پر ٹریڈ ہو رہے ہیں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا قرض بمقابلہ جی ڈی پی کا تناسب مالی سال 2020 میں 77 فیصد تھا جو مالی سال 2025 میں کم ہو کر 70 فیصد رہ گیا ہے۔ کل سرکاری قرض میں بیرونی قرض کا حصہ بھی کم ہو کر اب 32 فیصد تک آ گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حالیہ ہفتوں میں پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں بھی استحکام دیکھنے میں آیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر 19 ستمبر 2025 تک بڑھ کر 14 ارب 38 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔
حکومت اس وقت عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے دوسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے پہلے جائزے پر مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔
واضع رہے کہ خرم شہزاد کے مطابق آئندہ کے لیے عالمی قرضوں کی لاگت میں ممکنہ کمی اور مضبوط معاشی بنیادیں پاکستان کو عالمی مالیاتی منڈیوں تک بہتر شرائط پر رسائی دلانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ حکومت زیادہ پائیدار قرض پروفائل قائم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔






