لاہور چیمبر کے صدر فہیم الرحمٰن سہگل، سینئر نائب صدر تنویر احمد شیخ اور نائب صدر خرم لودھی کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور چین نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے اور وقت کے ساتھ یہ تعلق ایک آل ویدر اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں تبدیل ہو چکا ہے، جو اعتماد، باہمی احترام اور مشترکہ معاشی وژن پر قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 75 سالوں میں دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور دفاعی تعاون کے ساتھ ساتھ معاشی تعاون بھی مختلف شعبوں تک پھیل چکا ہے، جن میں انفراسٹرکچر، توانائی، زراعت، ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی شامل ہیں۔ 

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو ایک تاریخی منصوبہ قرار دیا گیا ہے جس نے خطے کی تجارت کو نئی سمت دی ہے اور پاکستان میں سرمایہ کاری اور رابطوں کے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔

لاہور چیمبر کی قیادت نے کہا کہ یہ تعلق صرف حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ عوامی سطح پر تعلقات، کاروباری روابط، تعلیمی تعاون اور ثقافتی تبادلے بھی اس کا اہم حصہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی کاروباری برادری، خصوصاً لاہور، چین کی مسلسل معاونت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے، خاص طور پر توانائی منصوبوں، ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر اور اسپیشل اکنامک زونز میں تعاون کو سراہا گیا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ آئندہ مرحلے میں تعاون کو ٹیکنالوجی ٹرانسفر، مشترکہ صنعتی منصوبوں، مینوفیکچرنگ میں جوائنٹ وینچرز اور ڈیجیٹل اکانومی تک وسعت دینی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، پاکستانی برآمدات کو چین تک آسان رسائی دی جائے، تجارتی عدم توازن کم کیا جائے اور ایس ایم ایز کے لیے چینی مارکیٹ میں مواقع بڑھائے جائیں۔

لاہور چیمبر کی قیادت نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کے چیمبرز آف کامرس کے درمیان ادارہ جاتی روابط مضبوط کیے جائیں، کاروباری وفود کے تبادلے بڑھائے جائیں اور مشترکہ تجارتی نمائشوں کا انعقاد کیا جائے۔