اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 19 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ 12 اشیاء سستی ہوئیں اور 20 اشیاء کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک ہفتے میں ٹماٹر کی قیمت میں 46.44 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح پیٹرول 1.72 فیصد، ہائی اسپیڈ ڈیزل 1.45 فیصد، لہسن 1.41 فیصد اور پیاز 1.22 فیصد مہنگے ہوئے۔ دیگر مہنگی ہونے والی اشیاء میں گھی، بیف، مٹن، دہی اور سگریٹس شامل ہیں۔

مہنگائی میں کمی کی فہرست میں چکن سرفہرست رہا جس کی قیمت میں 7.96 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے علاوہ کیلے 0.78 فیصد سستے ہوئے۔ دالوں، آلو، کوکنگ آئل اور ایل پی جی سمیت کچھ دیگر اشیاء کی قیمتیں بھی کم ہوئیں۔


وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق مہنگائی کا یہ رجحان ہفتہ وار سطح پر قیمتوں میں ہونے والی تبدیلیوں کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔

واضع رہے کہ ابھی تک حکومت یا وزارت خزانہ کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے باعث مہنگائی کی شرح مزید بڑھ سکتی ہے۔

ملک میں مہنگائی کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے حکومت کی جانب سے کسی واضح حکمت عملی کا اعلان نہیں کیا گیا۔