منگل کو جاری کی گئی سٹیٹ بینک کی ششماہی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 میں ملک کی حقیقی جی ڈی پی شرح نمو 3.25 سے 4.25 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، جو گزشتہ مالی سال کی 3.1 فیصد شرح نمو سے بہتر ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاشی بہتری میں سب سے اہم کردار صنعتی شعبے نے ادا کیا، جس نے 8.1 فیصد کی مضبوط ترقی ریکارڈ کی۔
بڑی صنعتوں نے تین سال سے جاری منفی رجحان کا خاتمہ کرتے ہوئے 4.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔ اس بہتری کی بڑی وجوہات میں گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ، ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی پیداوار میں تیزی اور پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار میں اضافہ شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شدید موسمی حالات اور سیلاب کے باعث کپاس اور مکئی جیسی اہم خریف فصلوں کو نقصان پہنچا، تاہم زرعی شعبہ پھر بھی 2.2 فیصد کی مثبت ترقی حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ اس میں لائیو اسٹاک کے شعبے کی بہتر کارکردگی اور گنے و چاول کی پیداوار میں اضافے نے اہم کردار ادا کیا۔
مرکزی بینک کے مطابق یہ کامیابی شرحِ سود یعنی مارک اپ کی ادائیگیوں میں نمایاں کمی اور مالیاتی استحکام کی مسلسل پالیسیوں کے باعث ممکن ہوئی۔ اس مالی گنجائش نے حکومت کو ترقیاتی منصوبوں اور سماجی اخراجات، خصوصاً سیلاب ریلیف سرگرمیوں میں اضافہ کرنے کا موقع فراہم کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عوام کو اس دوران کچھ ریلیف بھی ملا، کیونکہ نیشنل کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق مہنگائی کی شرح کم ہو کر 5.2 فیصد تک آ گئی، جو گزشتہ سال 7.2 فیصد تھی۔
سٹیٹ بینک کے مطابق عالمی توانائی قیمتوں میں کمی اور بجلی کے نرخوں میں مقامی سطح پر کی گئی ایڈجسٹمنٹ نے مہنگائی کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، تاہم سیلاب کے باعث خوراک کی قیمتیں نسبتاً بلند رہیں۔
#SBP has released Half-Year Report on the State of Pakistan’s Economy for FY26.
— SBP (@StateBank_Pak) May 12, 2026
See PR: https://t.co/F2ujiajGmt
Read Report: https://t.co/zcSCUPDamw pic.twitter.com/wmdvFegc1c
رپورٹ کے مطابق بہتر معاشی صورتِ حال کے پیشِ نظر سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے دسمبر 2025 میں پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کی۔
دوسری جانب صنعتی سرگرمیوں میں اضافے کے ساتھ درآمدات بھی بڑھیں، جس کے باعث تجارتی خسارہ تقریباً 36 فیصد تک بڑھ گیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک نے صنعتی خام مال، مشینری اور ٹرانسپورٹ آلات کی زیادہ درآمدات کیں، جبکہ برآمدات 9 فیصد کم ہو کر 15.1 ارب امریکی ڈالر رہ گئیں۔ اس کمی کی بڑی وجوہات عالمی سطح پر چاول کی قیمتوں میں کمی اور بڑھتا ہوا مقابلہ قرار دی گئی ہیں۔
تاہم کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.4 ارب ڈالر تک محدود رکھا گیا، جس میں ترسیلاتِ زر نے اہم کردار ادا کیا۔
رپورٹ کے مطابق بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے 19.7 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات بھیجیں، جس کے نتیجے میں سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر دسمبر 2025 کے اختتام پر 16.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔
اگرچہ مختصر مدت کے لیے معاشی منظرنامہ مثبت قرار دیا گیا ہے، تاہم سٹیٹ بینک نے طویل مدتی ساختی اور ماحولیاتی خطرات پر بھی خبردار کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ فوری معاشی خطرے کا مسئلہ بن چکی ہے۔ حالیہ سیلاب اور ہیٹ ویوز کے باعث اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، جبکہ خبردار کیا گیا ہے کہ اگر فوری موسمیاتی موافقت کے لیے سرمایہ کاری نہ کی گئی تو 2050 تک پاکستان کی جی ڈی پی میں 9 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے۔
مرکزی بینک نے مزید خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات، عالمی شپنگ لاگت میں اضافہ، اور بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آنے والے مہینوں میں پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے رہیں گے۔






