خبر رساں اشاعتی ادارے بزنس ریکارڈر کے مطابق درآمدات میں اسی عرصے کے دوران 13.49 فیصد اضافہ ہوا جو 14 ارب 95 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 16 ارب 97 کروڑ ڈالر تک جا پہنچیں۔ ان اعداد و شمار کے مطابق تجارتی خسارہ مالی سال 26 کی پہلی سہ ماہی میں نو ارب 37 کروڑ ڈالر رہا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق ستمبر کے مہینے میں برآمدات دو ارب 50 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں جو گزشتہ سال اسی مہینے میں دو ارب 84 کروڑ ڈالر تھیں۔ اس طرح سالانہ بنیاد پر ستمبر میں برآمدات میں 11.71 فیصد کمی آئی۔ اس کے برعکس ستمبر میں درآمدات پانچ ارب 84 کروڑ ڈالر ہوئیں جو گزشتہ سال اسی مہینے میں پانچ ارب 13 کروڑ ڈالر تھیں۔ اس طرح ستمبر میں تجارتی خسارہ تین ارب 34 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ سال کے ستمبر میں دو ارب 30 کروڑ ڈالر تھا۔ اس خسارے میں سالانہ بنیاد پر 45.83 فیصد اضافہ ہوا۔
ماہانہ بنیاد پر دیکھا جائے تو اگست کے مقابلے میں ستمبر میں برآمدات میں 3.64 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔ اگست میں برآمدات دو ارب 42 کروڑ ڈالر تھیں۔ اسی طرح ماہانہ بنیاد پر درآمدات میں 10.53 فیصد اضافہ ہوا اور ستمبر میں یہ پانچ ارب 84 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ اگست میں یہ پانچ ارب 29 کروڑ ڈالر تھیں۔ ماہانہ تجارتی خسارہ 16.33 فیصد اضافے سے تین ارب 34 کروڑ ڈالر رہا جو اگست میں دو ارب 87 کروڑ ڈالر تھا۔
پاکستان کی برآمدات میں کمی کی بنیادی وجہ ٹیکسٹائل کی برآمدات میں کمی کو قرار دیا جا رہا ہے جو ملک کی کل برآمدات کا تقریباً 60 فیصد ہیں۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین آصف انعام کے مطابق عالمی منڈی میں کپاس کی قیمتوں میں کمی اور توانائی کی بلند لاگت نے برآمدات پر منفی اثر ڈالا۔
ان کے بقول گزشتہ ایک سال کے دوران کپاس کی قیمتیں ایک اعشاریہ پانچ ڈالر سے کم ہو کر 64 سینٹ فی پاؤنڈ رہ گئی ہیں جس سے ٹیکسٹائل سازوں کے منافع پر دباؤ بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر برآمد کنندگان کو موجودہ 12 سے 13 سینٹ کے بجائے سات سینٹ فی یونٹ بجلی مہیا کی جائے تو برآمدات دو سے تین سال میں 25 ارب ڈالر تک جا سکتی ہیں۔
واضع رہے کہ دوسری جانب خدمات کے شعبے میں بھی تجارتی خسارے میں اضافہ دیکھا گیا۔ مالی سال 26 کے جولائی سے اگست کے عرصے میں خدمات کی برآمدات 11.73 فیصد بڑھ کر ایک ارب 40 کروڑ ڈالر ہو گئیں جبکہ گزشتہ سال یہی مقدار ایک ارب 25 کروڑ ڈالر تھی۔ اسی عرصے میں خدمات کی درآمدات 15.37 فیصد اضافے سے دو ارب 10 کروڑ ڈالر رہیں۔ اس طرح خدمات کے شعبے میں تجارتی خسارہ 16.94 فیصد بڑھ کر 707 ملین ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 604.8 ملین ڈالر تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ توانائی کی لاگت میں کمی، برآمد کنندگان کو سہولیات کی فراہمی اور عالمی مارکیٹ میں مسابقتی نرخوں کی فراہمی کے بغیر برآمدات میں مستقل بہتری ممکن نہیں۔





