میڈیا  سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے اور مہنگائی میں کمی لانے کے لیے مسلسل اقدامات کررہی ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ معیشت کی بہتری کے لیے ٹیکس وصولی کے نظام کو مؤثر بنانا ضروری ہے، اسی لیے نئے ٹیکس لگانے کے بجائے ایسے افراد اور شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے پر توجہ دی جارہی ہے جو اب تک ٹیکس دائرے سے باہر ہیں، انفورسمنٹ اور کمپلائنس بہتر ہونے سے قومی آمدن میں اضافہ ہوگا اور حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے مزید وسائل دستیاب ہوں گے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ مہنگائی پر قابو پانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے مختلف معاشی اصلاحات پر کام جاری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے مہینوں میں عوام کو مزید معاشی بہتری محسوس ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی سطح پر متحرک کردار ادا کررہا ہے، عالمی برادری پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہ رہی ہے اور ملک کا مثبت تشخص بین الاقوامی سطح پر مزید مضبوط ہورہا ہے۔

انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور تنقید برائے تنقید سے گریز کریں، سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔

وزیر خزانہ نے زرعی شعبے کو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال سے گندم سمیت دیگر فصلوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بعض کاشتکار جدید طریقۂ کاشت کے ذریعے گندم کی پیداوار 60 سے 70 من فی ایکڑ تک لے جاچکے ہیں، جو ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔

محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف زرعی شعبے کو درپیش مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں اور حکومت کسانوں کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا تو پاکستان کی برآمدات میں بھی نمایاں بہتری آئے گی اور ملکی معیشت مزید مستحکم ہوگی۔