یہ تفصیلات ایک رپورٹ میں سامنے آئی ہیں جو ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے دوسرے جائزے سے متعلق ہے۔ ان نئی شرائط کے بعد پروگرام کے تحت مجموعی اسٹرکچرل شرائط کی تعداد 55 ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق نئے اسٹرکچرل بینچ مارکس پروگرام کے اصلاحاتی ایجنڈے کی نگرانی کے لیے تجویز کیے گئے ہیں۔ ان میں مالی سال 2027 کے بجٹ کی منظوری، ریونیو انتظامیہ میں اصلاحات، انسدادِ بدعنوانی کے اقدامات، پبلک پروکیورمنٹ نظام کو مضبوط بنانا، گیس اور بجلی نرخوں میں باقاعدہ ایڈجسٹمنٹ، غیر مشروط نقد امداد کے پروگرام کو برقرار رکھنا، فارن ایکسچینج لبرلائزیشن کے لیے روڈ میپ تیار کرنا اور ریگولیٹری شفافیت بہتر بنانا شامل ہے۔

مالیاتی شعبے سے متعلق شرائط کے تحت پارلیمنٹ سے مالی سال 2027 کے بجٹ کی منظوری حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے، جو آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ اہداف کے مطابق ہو گا۔ اس میں بنیادی بجٹ سرپلس کو جی ڈی پی کے 2 فیصد کے برابر رکھنے کی شرط شامل ہے۔ اس ہدف کی تکمیل جون 2026 کے اختتام تک کرنا ہو گی۔

اسی طرح ایک آڈٹ مینول اور آڈٹ پالیسی بھی تیار کی جائے گی تاکہ کمپلائنس رسک مینجمنٹ سسٹم کے تحت ہائی رسک کیسز کی نگرانی اور آڈٹ کیسز کے انتخاب کے عمل کو مرکزی بنایا جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد ریونیو انتظامیہ کو بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کرنا ہے، جبکہ اس کی آخری تاریخ اگست 2026 مقرر کی گئی ہے۔

آئی ایم ایف نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) کے قواعد میں ترمیم کی شرط بھی رکھی ہے تاکہ سرکاری اداروں کو بغیر مسابقتی عمل کے سرکاری ٹھیکے دینے میں ترجیح ختم کی جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد شفافیت اور مساوی مواقع کو یقینی بنانا ہے، جبکہ اس کی مدت ستمبر 2026 تک مقرر کی گئی ہے۔

گورننس سے متعلق شرائط میں نیب کی خودمختاری اور شفافیت میں اضافہ شامل ہے۔ اس کے لیے نیب آرڈیننس میں ترامیم پارلیمنٹ میں پیش کی جائیں گی تاکہ اعلیٰ انتظامیہ کی تقرری کے لیے کھلا، میرٹ پر مبنی اور سخت مسابقتی انتخابی نظام متعارف کرایا جا سکے۔ اس عمل میں پہلے سے طے شدہ اہلیت کے معیار اور مختلف شعبوں پر مشتمل اسٹیک ہولڈر کمیٹی بھی شامل ہو گی۔

اس کے علاوہ نیب کو اپنی تحقیقات، مقدمات، سزاؤں کے سالانہ اعدادوشمار اور قواعد بھی شائع کرنا ہوں گے۔ اس اقدام کی آخری تاریخ جنوری 2027 کے اختتام تک مقرر کی گئی ہے۔

سماجی شعبے کے تحت کفالت پروگرام میں غیر مشروط نقد امداد کی سہ ماہی رقم کو سالانہ مہنگائی کے تناسب سے ایڈجسٹ کیا جائے گا تاکہ امداد کی حقیقی خریداری قوت برقرار رہے۔ اس شرط پر عملدرآمد جنوری 2027 تک کرنا ہو گا۔

مالیاتی و مانیٹری شعبے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو فارن ایکسچینج نظام میں بتدریج نرمی کے لیے ایک روڈ میپ تیار کرنا ہو گا، جس میں میکرو اکنامک استحکام، مالیاتی استحکام اور دیگر پیشگی شرائط شامل ہوں گی۔ اس اقدام کا مقصد فارن ایکسچینج نظام کو زیادہ آزاد بنانا ہے، جبکہ اس کی آخری تاریخ مارچ 2027 رکھی گئی ہے۔

توانائی کے شعبے سے متعلق شرائط کے مطابق یکم جولائی 2026 تک ششماہی گیس ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا تاکہ گیس نرخ لاگت کے مطابق برقرار رہیں۔

اسی طرح 15 فروری 2027 تک دوبارہ ششماہی گیس ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی، جبکہ 15 جنوری 2027 تک سالانہ بجلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کا نوٹیفکیشن بھی جاری کرنا ہو گا تاکہ بجلی نرخ لاگت پوری کرنے کی سطح پر برقرار رہیں۔

تجارت، سرمایہ کاری پالیسی اور ڈی ریگولیشن کے شعبے میں اسپیشل اکنامک زون (ایس ای زیڈ) ایکٹ میں ترامیم کی جائیں گی، جن کے تحت موجودہ مالیاتی مراعات کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا۔ منافع پر مبنی مراعات کے بجائے لاگت پر مبنی مراعات متعارف کرائی جائیں گی، جبکہ بورڈ آف اپروول، بورڈ آف انویسٹمنٹ اور موجودہ ایس ای زیڈ اتھارٹیز کے ٹیکس مراعات دینے کے اختیارات بھی واپس لیے جائیں گے۔

اسی طرح اسپیشل ٹیکنالوجی زونز اتھارٹی (ایس ٹی زیڈ اے) ایکٹ میں بھی ترامیم کی جائیں گی تاکہ تمام موجودہ مالیاتی مراعات کو 2035 تک مرحلہ وار ختم کیا جا سکے۔