امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب ایک نئے موڑ پر پہنچ چکی ہے اور اطلاعات کے مطابق آخری مذاکرات کامیابی کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو ایران پر عائد پابندیاں ختم ہو سکتی ہیں۔

ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ ایران کی جانب سے آخری تجویز پاکستان کے ذریعے آگے پہنچا دی گئی ہیں۔ یعنی پاکستان اس پورے معاملے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

اب ذرا سوچیں اگر ایران دوبارہ عالمی مارکیٹ، یعنی اوپیک سسٹم کا حصہ بن جاتا ہے، تو گیم واقعی چینج ہو جائے گی۔

پاکستان کو سب سے پہلے توانائی کے شعبے میں فائدہ ہوگا، پاکستانیوں کو تیل، گیس اور بجلی سستے اور وافر مقدار میں مل سکتے ہیں۔

پاکستان براہِ راست ایران سے تیل اور گیس حاصل کر سکے گاوہ بھی بغیر کسی رکاوٹ، بغیر کسی دباؤ کے اور سب سے اہم منصوبہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن، جو برسوں سے رکی ہوئی ہے دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ سستی گیس، کم بجلی کے بل اور انڈسٹری کے لیے سستی توانائی۔ یعنی فیکٹریاں زیادہ چلیں گی،  پیداوار بڑھے گی اور معیشت میں جان آ جائے گی۔

دوسرا بڑا فائدہ  صنعتی خام مال ہے۔ ایران سے سستا را میٹریل آئے گا، جس سے پاکستانی صنعت کو براہِ راست فائدہ ہوگا۔جب لاگت کم ہوگی، تو مصنوعات سستی بنیں گی، ایکسپورٹس بڑھیں گی اور یہی چیز معیشت کو آگے لے جاتی ہے۔

اب بات کرتے ہیں عالمی سطح کی، جب ایران پر پابندیاں ختم ہوں گی اور خطے میں کشیدگی کم ہوگی، تو یہ پوری دنیا کے لیے ایک مثبت اشارہ ہوگا۔

تیل کی قیمتیں نیچے آئیں گی، انرجی مارکیٹ مستحکم ہوگی اور پاکستان جیسے ملک کو اس کا سیدھا فائدہ ہوگا۔صرف یہی نہیں، بیرونِ ملک جانے والی سرمایہ کاری بھی واپس آ سکتی ہے خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ سے۔

یعنی زیادہ نوکریاں،زیادہ بزنس اور مضبوط معیشت۔ تو جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم ہوگی، تو پورا خطہ مستحکم ہوگا۔ کم خطرات زیادہ تجارت اور بہتر معاشی سرگرمیاں۔

اور یاد رکھیں پاکستان اس پورے منظرنامے میں ایک خاص پوزیشن میں ہےکیونکہ وہ ایران کا پڑوسی ہے۔

اسی حوالے سے سیاسی قیادت بھی آواز اٹھا رہی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ تجارت کے دروازے کھولے جائیں کیونکہ ایران سستا تیل، گیس اور بجلی دینے کے لیے تیار ہے۔