ایف بی آئی کے مطابق کارروائی کا ہدف وہ گروہ تھے جو مبینہ طور پر آن لائن دھوکہ دہی کے ذریعے امریکی شہریوں سے رقوم ہتھیاتے تھے۔ ایک کیس میں ایک ہی امریکی شہری سے تقریباً 30 لاکھ ڈالر کا فراڈ کیا گیا۔
ایف بی آئی نے کمبوڈیا میں قائم پرنس ہولڈنگ گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر چن ژی کی گرفتاری کے دوران 127 ہزار سے زائد بٹ کوائن ضبط کیے۔
اس کرپٹو کرنسی کی موجودہ مالیت 8 ارب ڈالر سے زیادہ ہے جبکہ ضبطی کے وقت اس کی مالیت 15 ارب ڈالر سے بھی زائد ہو سکتی تھی۔ امریکی حکام نے اسے امریکی حکومت کی تاریخ کی سب سے بڑی ضبطی قرار دیا ہے۔
چن ژی پر وائر فراڈ اور منی لانڈرنگ کی سازش کے وفاقی الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
حکام کے مطابق پرنس گروپ دنیا بھر میں سخت سیکیورٹی والے فراڈ مراکز چلا رہا تھا، جہاں سے آن لائن دھوکہ دہی کے ذریعے امریکا اور دیگر ممالک کے شہریوں سے رقم بٹوری جاتی تھی۔
ایف بی آئی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ مزید فراڈ مراکز کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر کارروائیاں جاری ہیں۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے کہا کہ یہ فراڈ کمپاؤنڈز منظم جرائم کے ایسے مراکز ہیں جو امریکی شہریوں کو لوٹنے، منی لانڈرنگ کرنے اور بڑے پیمانے پر لوگوں کا استحصال کرنے کے لیے قائم کیے گئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ ایف بی آئی نے تقریباً 2 ہزار انسانی اسمگلنگ کے متاثرین کو آزاد کرایا، 8 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے فراڈ نیٹ ورکس کا خاتمہ کیا اور تقریباً 300 افراد کو گرفتار کیا۔
تھائی لینڈ میں ایف بی آئی نے ایک فراڈ آپریشن سے ہزاروں اسمارٹ فونز اور دیگر دفتری سامان قبضے میں لیا۔
دبئی میں مقامی پولیس اور ایف بی آئی نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے 275 افراد کو گرفتار کیا، جن میں سے 6 افراد کو امریکا منتقل کیے جانے کا امکان ہے تاکہ ان پر وفاقی عدالتوں میں مقدمات چلائے جا سکیں۔
حکام کے مطابق دبئی میں چھاپہ مارے گئے 9 فراڈ مراکز میں سے ہر ایک سالانہ تقریباً 60 لاکھ ڈالر کی غیر قانونی آمدنی حاصل کر رہا تھا۔
کارروائیوں کا دائرہ میانمار کی مسلح تنظیم ڈیموکریٹک کیرن بینیوولنٹ آرمی (DKBA) تک بھی پھیلا ہوا ہے۔
اس تنظیم پر امریکی محکمہ خزانہ پہلے ہی بڑے پیمانے پر فراڈ سرگرمیوں سے تعلق رکھنے کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد کر چکا ہے۔
’’آپریشن ہاؤچن‘‘ نامی ایک تحقیقات میانمار کے شہر کیاؤکھات میں قائم ’’تائی چانگ‘‘ فراڈ کمپاؤنڈ پر مرکوز تھی، جو ڈی کے بی اے کے زیرِ کنٹرول علاقے میں واقع ہے اور مبینہ طور پر چینی جرائم پیشہ عناصر سے منسلک تھا۔
ایف بی آئی نے تائی چانگ اور دیگر فراڈ مراکز سے منسلک 3 کروڑ ڈالر ضبط کیے۔
ایف بی آئی کے مطابق بعض فراڈ نیٹ ورکس انسانی اسمگلنگ کے متاثرین کو زبردستی مزدوری پر مجبور کرتے تھے۔
لوگوں کو اچھی تنخواہوں اور ورک ویزوں کا جھانسہ دے کر ان مراکز تک لایا جاتا تھا، جہاں پہنچنے کے بعد انہیں تشدد، مارپیٹ اور دیگر اذیتوں کی دھمکی دے کر آن لائن فراڈ کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔
حکام کا کہنا ہے کہ بعض فراڈ اسکیموں کا تعلق خودکشیوں کے واقعات سے بھی جوڑا گیا ہے، خصوصاً بلیک میلنگ اور بھتہ خوری کے ایسے کیسز جن کا نشانہ نوجوان بنتے رہے ہیں۔
ایف بی آئی نے اسٹارلنک کے ساتھ مل کر بھی کام کیا اور جغرافیائی معلومات فراہم کیں تاکہ فراڈ میں استعمال ہونے والے اسٹارلنک ٹرمینلز کی نشاندہی کی جا سکے۔
اس تعاون کے نتیجے میں میانمار میں 7 ہزار سے زائد اسٹارلنک ٹرمینلز معطل کر دیے گئے۔
یہ وسیع کریک ڈاؤن ’’آپریشن بلیک آؤٹ‘‘ کے نام سے کیا گیا، جس کے تحت مختلف تحقیقات چلائی گئیں۔
آپریشن زیفر ایگزوڈس: پرنس ہولڈنگ گروپ پر مرکوز تھا۔
آپریشن سینڈ ڈالر: ایشیا میں سرگرم جرائم پیشہ گروہوں کے فراڈ مراکز کے خلاف تھا جو متحدہ عرب امارات میں امریکی شہریوں کو نشانہ بناتے تھے۔
آپریشن ہاؤچن: میانمار کے تائی چانگ کمپاؤنڈ پر مرکوز تھا۔
شنڈا کمپاؤنڈ ٹیک ڈاؤن: ایف بی آئی اور تھائی حکام کی مشترکہ کارروائی تھی، جس میں دو گرفتاریاں ہوئیں اور ایک ٹیلیگرام چینل بند کیا گیا جو لوگوں کو کمبوڈیا میں جعلی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نام پر فراڈ کے لیے بھرتی کرتا تھا۔
متاثرین کو خبردار کرنے کی مہم
ایف بی آئی نے ’’آپریشن لیول اپ‘‘ کے نام سے ایک خصوصی مہم بھی شروع کی جس کا مقصد کرپٹو سرمایہ کاری کے فراڈ کا شکار افراد کی شناخت اور انہیں بروقت خبردار کرنا تھا۔
اس مہم کے تحت اب تک 8,935 متاثرین سے رابطہ کیا گیا، جن میں سے 77 فیصد کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ وہ دھوکہ دہی کا شکار ہو چکے ہیں۔
ایف بی آئی کے مطابق ان انتباہات کی بدولت تقریباً 562 ملین ڈالر کے مزید نقصانات کو روکا جا سکا۔
یہ کارروائیاں اس وقت شروع ہوئیں جب 2025 میں ایف بی آئی کے انٹرنیٹ کرائم کمپلینٹ سینٹر (IC3) کو کرپٹو سرمایہ کاری سے متعلق شکایات موصول ہونا شروع ہوئیں۔
ادارے کے مطابق صرف 2025 کے دوران تقریباً 72 ہزار شکایات موصول ہوئیں جن میں کرپٹو سرمایہ کاری کے فراڈ سے 7.5 ارب ڈالر سے زائد کے نقصانات رپورٹ کیے گئے۔
ایف بی آئی کا ماننا ہے کہ حقیقی نقصان کی مالیت اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ بہت سے متاثرین کبھی شکایت درج ہی نہیں کرواتے۔







