صبح 9 بج کر 40 منٹ پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,828.56 پوائنٹس یعنی 1.02 فیصد اضافے کے ساتھ 180,863.49 پوائنٹس پر ٹریڈ کرتا دکھائی دیا۔
مارکیٹ میں اہم شعبوں میں خریداری کا دباؤ نمایاں رہا، جن میں آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، تیل و گیس کی تلاش و پیداوار کرنے والی کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اور پاور جنریشن شامل تھیں۔
انڈیکس پر اثر انداز ہونے والے بڑے شیئرز جیسے حبکو، ماری، او جی ڈی سی، پول، پی پی ایل، پی ایس او، ایس این جی پی ایل، ایس ایس جی سی، ایچ بی ایل، ایم سی بی، میزل اور یو بی ایل سبز نشان میں ٹریڈ کرتے رہے۔
گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان کی ایکویٹی مارکیٹ میں مضبوط تیزی کا سلسلہ جاری رہا اور کے ایس ای 100 انڈیکس نئی تاریخی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔
افراط زر میں کمی کے آثار، مختلف شعبوں کی بہتر کارکردگی اور سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی شمولیت نے مارکیٹ میں تیزی کے رجحان کو مزید تقویت دی۔
کے ایس ای 100 انڈیکس میں ہفتہ وار بنیاد پر 6,634 پوائنٹس یعنی 3.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور انڈیکس 179,035 پوائنٹس پر بند ہوا، جبکہ اس سے قبل ہفتے کے اختتام پر یہ 172,401 پوائنٹس پر تھا۔
عالمی سطح پر پیر کے روز ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جبکہ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ رہا کیونکہ سرمایہ کار امریکا کی جانب سے وینزویلا میں فوجی کارروائی کے ممکنہ اثرات اور سال کے پہلے مکمل کاروباری ہفتے میں آنے والے اہم معاشی اعداد و شمار کا جائزہ لے رہے تھے۔
ایم ایس سی آئی کا جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے شیئرز پر مشتمل وسیع ترین انڈیکس 1.2 فیصد بڑھا، جبکہ ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز میں 0.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سرمایہ کار ایک ہنگامہ خیز ویک اینڈ کے اثرات پر بھی غور کر رہے تھے، جس کے دوران امریکا نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو حراست میں لیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ امریکا وینزویلا کو عارضی طور پر امریکی کنٹرول میں لے رہا ہے۔
علاقائی مارکیٹس میں جاپان کا نکی 225 انڈیکس 2.8 فیصد اضافے کے ساتھ دو ماہ قبل قائم ہونے والی ریکارڈ سطح کے قریب پہنچ گیا۔
جاپانی شیئرز میں اس وقت مزید بہتری دیکھی گئی جب اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ دسمبر میں مینوفیکچرنگ سرگرمی مستحکم رہی اور پانچ ماہ سے جاری تنزلی کا سلسلہ رک گیا۔
جنوبی کوریا کا کوسپی اور تائیوان کی مارکیٹس بھی دو فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ نئی ریکارڈ بلند ترین سطحوں پر پہنچ گئیں۔
چین کی مارکیٹس نسبتاً محتاط رہیں، جہاں ہینگ سینگ انڈیکس میں معمولی 0.1 فیصد اضافہ ہوا، تاہم چینی تیل کمپنیوں کے شیئرز دباؤ میں رہے۔
ہانگ کانگ میں درج توانائی کے شیئرز کے انڈیکس میں 3.1 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ آسٹریلوی شیئرز میں بھی 0.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔






