واشنگٹن اور تہران کے درمیان تازہ کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو محفوظ اثاثوں کی جانب مائل کر دیا، جبکہ خطے میں عدم استحکام اور آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی آ گئی۔
ایم ایس سی آئی ایشیائی ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کے شیئرز انڈیکس میں 2 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی، جو ایک ہفتے سے زائد عرصے میں بدترین تجارتی سیشن ثابت ہوا۔ سنگاپور کا ایف ٹی ایس ای اسٹریٹس ٹائمز انڈیکس تقریباً 0.7 فیصد گر گیا، جبکہ تھائی لینڈ اور فلپائن کی مارکیٹوں میں 1 سے 1.8 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔
ٹریمیگاہ سیکوریٹاس انڈونیشیا کے چیف اکنامسٹ فخرال فلوویان نے کہا کہ مارکیٹیں بہت تیزی سے آگے بڑھ گئی تھیں اور جغرافیائی سیاسی امیدوں کو پہلے ہی قیمتوں میں شامل کر چکی تھیں۔ اب سرمایہ کار قیاس آرائیوں کے بجائے حقیقی سفارتی پیش رفت کا انتظار کرتے ہوئے اپنی پوزیشنز کم کر رہے ہیں۔
ایشیائی کرنسیاں بھی دباؤ کا شکار رہیں، جبکہ امریکی ڈالر انڈیکس ایک ہفتے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، کیونکہ ایران تنازع کے جلد حل کی امیدیں کمزور پڑ گئیں۔
یہ کمی اس کے باوجود سامنے آئی کہ وال اسٹریٹ کے بڑے انڈیکس ایک روز قبل ریکارڈ بلند سطح پر بند ہوئے تھے، جہاں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے اور تیل کی قیمتوں میں کمی کی امیدوں نے مارکیٹ کو سہارا دیا تھا۔ تاہم ایشیائی ٹریڈنگ کے دوران جذبات اس وقت متاثر ہوئے جب اطلاعات سامنے آئیں کہ امریکہ نے بدھ کو ایران پر ایک اور فوجی حملہ کیا، جو اس ہفتے دوسرا بڑا آپریشن تھا۔
یہ حملے امریکی صدر ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد ہوئے جن میں انہوں نے ان خبروں کو مسترد کیا کہ ایران اور عمان ممکنہ امن معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مشترکہ نگرانی کریں گے۔
حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور بدھ کی بڑی کمی کا کچھ حصہ واپس حاصل کر لیا گیا۔ برینٹ کروڈ تقریباً 97 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر ٹریڈ کرتا رہا۔
جاپان کا نکیئی 225 انڈیکس ریکارڈ بلند سطح چھونے کے بعد 0.1 فیصد کمی کے ساتھ 64,921 پوائنٹس پر آ گیا، جبکہ وسیع تر ٹوپکس انڈیکس میں بھی 0.2 فیصد کمی دیکھی گئی۔
جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس 1.1 فیصد گر گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے سیمی کنڈکٹر اور مصنوعی ذہانت سے متعلق شیئرز میں منافع وصولی کی۔ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس تقریباً 2 فیصد نیچے آ گیا، جبکہ چین کا شنگھائی کمپوزٹ 0.4 فیصد اور سی ایس آئی 300 انڈیکس 1.1 فیصد گر گیا۔
علاقے کے دیگر حصوں میں آسٹریلیا کا ایس اینڈ پی/ایس ایکس 200 انڈیکس 1.1 فیصد کم ہوا، جبکہ بھارت کے نفٹی 50 فیوچرز میں 0.3 فیصد کمی دیکھی گئی۔
سرمایہ کار اب امریکہ کے پرسنل کنزمپشن ایکسپینڈیچر یعنی پی سی ای پرائس انڈیکس کے اعداد و شمار کے منتظر ہیں، جو جمعرات کو جاری کیے جائیں گے۔ یہ فیڈرل ریزرو کا پسندیدہ افراطِ زر پیمانہ سمجھا جاتا ہے اور مستقبل میں شرحِ سود کے فیصلوں پر اہم اثر ڈال سکتا ہے۔
مارکیٹ میں یہ خدشات بھی بڑھ رہے ہیں کہ ایران تنازع کے باعث تیل اور توانائی کی مسلسل بلند قیمتیں فیڈرل ریزرو کی پالیسی کو پیچیدہ بنا سکتی ہیں اور رواں سال شرحِ سود میں مزید اضافے کے امکانات بڑھا سکتی ہیں۔







