پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے لاہور میں لگائے گئے 49 کھلاڑیوں کے کیمپ میں 22 کھلاڑیوں کو ٹیسٹ جب کہ 27 کھلاڑیوں کو وائٹ بال فارمیٹ کے لیے منتخب کیا گیا ہے، تاہم شاہین آفریدی کا نام ریڈ بال کیمپ میں شامل نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق پی سی بی کے تھنک ٹینک نے فیصلہ کیا ہے کہ شاہین آفریدی کو فی الحال ٹیسٹ کرکٹ کے لیے زیر غور نہیں رکھا جائے گا، جب کہ وہ وائٹ بال کیمپ کا حصہ ہوں گے۔ توقع ہے کہ وہ 15 جون کو وائٹ بال کیمپ میں رپورٹ کریں گے۔

پی سی بی کے مطابق ریڈ بال کیمپ 10 جولائی تک جاری رہے گا جب کہ وائٹ بال کیمپ 15 جون سے 18 ستمبر تک نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں منعقد کیا جائے گا۔ ان کیمپس کا مقصد کھلاڑیوں کی تکنیکی اور فٹنس تیاری کو بہتر بنانا ہے۔

شاہین آفریدی نے آخری ٹیسٹ مئی 2026 میں بنگلادیش کے خلاف کھیلا تھا، جہاں پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس میچ میں ان کی بولنگ کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے، جب کہ اس سے قبل دورہ بنگلادیش میں ان کی رفتار میں کمی پر شدید تنقید کی گئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی سی بی کو خدشہ ہے کہ شاہین آفریدی فرسٹ کلاس کرکٹ باقاعدگی سے نہیں کھیلتے، جس کے باعث ان کی ریڈ بال پرفارمنس متاثر ہو رہی ہے۔ اسی وجہ سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ انہیں مستقبل میں ٹیسٹ اسکواڈ کے لیے ترجیح نہیں دی جائے گی۔

شاہین آفریدی نے اپنے کیریئر میں 34 ٹیسٹ میچز میں 126 وکٹیں حاصل کی ہیں، تاہم حالیہ کارکردگی اور فٹنس مینجمنٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے بورڈ کی جانب سے یہ اہم فیصلہ سامنے آیا ہے۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کے مستقبل کے منصوبے میں بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ ہو سکتا ہے، تاہم اس پر حتمی رائے آنے والے دنوں میں مزید واضح ہوگی۔