پاکستانی ٹیم کی مسلسل ناقص کارکردگی نے شائقین کے ساتھ ساتھ سابق کھلاڑیوں کو بھی شدید مایوس کیا ہے،جب ٹیم میدان میں اس نوعیت کی کارکردگی دکھائے تو پھر تنقید کے علاوہ کچھ باقی نہیں رہتا۔

سابق فاسٹ بولر کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں قومی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں،موجودہ سیٹ اپ میں کوئی بھی ایسا دکھائی نہیں دیتا جو مضبوط انداز میں ٹیم کی قیادت کرسکے۔

انہوں نے بالخصوص شان مسعود کی کپتانی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹیسٹ ٹیم کو ایک ایسے کپتان کی ضرورت ہے جو میدان میں جارحانہ سوچ اور بہتر حکمت عملی کے ساتھ ٹیم کو آگے لے کر چل سکے۔

شعیب اختر نے وائٹ بال کرکٹ کے حوالے سے بھی اپنی رائے دیتے ہوئے کہا کہ اگر ٹیم مینجمنٹ کو محدود اوورز کی کرکٹ میں نئی قیادت لانی تھی تو فخر زمان کو مستقل موقع دینا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بار بار تبدیلیوں سے ٹیم کے ماحول اور کھلاڑیوں کے اعتماد پر منفی اثر پڑتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شاہین شاہ آفریدی کو ون ڈے کے بجائے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کی قیادت دینا زیادہ مناسب فیصلہ ہوسکتا تھا کیونکہ مختصر فارمیٹ میں ان کی جارحانہ سوچ ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتی تھی۔

سابق فاسٹ بولر نے کہا کہ پاکستان کرکٹ اس وقت منصوبہ بندی کے فقدان کا شکار دکھائی دیتی ہے اور ٹیم میں تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے نتائج بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ صرف کپتان تبدیل کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ ڈومیسٹک کرکٹ، سلیکشن اور ٹیم مینجمنٹ کے نظام میں بھی بہتری لانا ہوگی۔

واضح رہے کہ بنگلادیش کرکٹ ٹیم نے دوسرے ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو 78 رنز سے شکست دے کر دو میچوں کی سیریز اپنے نام کی۔ اس شکست کے بعد قومی ٹیم کو شدید تنقید کا سامنا ہے جبکہ سابق کرکٹرز اور شائقین کی جانب سے ٹیم میں بڑی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا اور کرکٹ حلقوں میں بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کی پالیسیوں، ٹیم سلیکشن اور کپتانی کے فیصلوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ بعض سابق کھلاڑیوں نے ٹیم کے خلاف سخت احتساب کا مطالبہ بھی کیا ہے۔