پیر کو چیٹوٹگرام میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے خلاف مئی کے اوائل میں شیڈول ٹیسٹ سیریز آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ ہے، جس میں بنگلہ دیش اب تک خاطر خواہ کارکردگی نہیں دکھا سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں ہماری کارکردگی زیادہ اچھی نہیں رہی، تاہم اب ہم اپنی پوزیشن بہتر بنانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے کھیل کے انداز میں تبدیلی لانا ہوگی۔
چیف سلیکٹر نے کہا کہ ٹیم انتظامیہ جارحانہ کرکٹ کی جانب بڑھنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس کے تحت نئے اوپنر تنزید حسن تمیم کو اسکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ ٹیم کی مجموعی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ باؤلنگ کے شعبے میں ٹیم کے پاس 20 وکٹیں حاصل کرنے کی صلاحیت موجود ہے، تاہم اصل ضرورت بیٹنگ میں تسلسل پیدا کرنے کی ہے تاکہ بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
تنزید حسن تمیم کے انتخاب پر بات کرتے ہوئے حبیب البشر کا کہنا تھا کہ ہر کھلاڑی کو اس کے فطری انداز کے مطابق کھیلنے کی آزادی دی جائے گی۔ ہم جس کھلاڑی کا انتخاب کرتے ہیں، اس کے کھیل کے انداز کو مدنظر رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ اسی انداز میں کارکردگی دکھائے۔
ادھر بائیں ہاتھ کے اوپنرز شادمان اسلام اور محمود الحسن جوائے کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے چیف سلیکٹر نے کہا کہ دونوں کھلاڑی اپنی فارم میں ہیں اور ٹیم کے لیے اہم آپشنز ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ٹیم مینجمنٹ کھلاڑیوں کو ان کے قدرتی کھیل سے ہٹ کر کھیلنے پر مجبور نہیں کرے گی، کیونکہ اس سے کارکردگی متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ تاہم مستقبل کی ضروریات کے پیش نظر متبادل آپشنز بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔
حبیب البشر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر ٹیم بیٹنگ میں تسلسل برقرار رکھنے میں کامیاب ہو گئی تو بنگلہ دیش ٹیسٹ چیمپئن شپ میں نمایاں بہتری دکھا سکتا ہے۔






