یہ ٹیسٹ گزشتہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران لیا گیا تھا، جس کے نتائج میں محمد نواز کے نمونے میں ایسی علامات سامنے آئیں جنہیں قواعد کے مطابق ممنوعہ یا ریکریئیشنل ڈرگ کے استعمال سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ابتدائی نتائج کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا، جس کے بعد پی سی بی نے فوری طور پر اندرونی سطح پر تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ معاملے کی مکمل حقیقت سامنے آ سکے۔

پی سی بی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے اور اس پر تمام کارروائی آئی سی سی کے اینٹی ڈوپنگ قوانین اور ضابطہ اخلاق کے مطابق کی جا رہی ہے۔ بورڈ نے متعلقہ کھلاڑی سے بھی ابتدائی سطح پر رابطے کی تیاری شروع کر دی ہے تاکہ ان کا مؤقف بھی سنا جا سکے۔

 ٹیسٹ رپورٹس میں ریکریئیشنل ڈرگ کے ممکنہ استعمال کی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم حتمی فیصلہ مکمل تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی سامنے آئے گا۔

پی سی بی آج اس معاملے کی ابتدائی پیش رفت سے متعلق آئی سی سی کو بھی آگاہ کرے گا جبکہ حتمی نتائج آنے تک کسی بھی قسم کی تادیبی کارروائی یا فیصلے سے گریز کیا جائے گا۔

وضح رہے کہ اس نوعیت کے الزامات قومی ٹیم کے لیے تشویش کا باعث ہیں اور اگر الزامات ثابت ہوتے ہیں تو اس کے کھلاڑی کے کیریئر پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔