مچل سینٹنر کا کہنا ہے کہ آئی پی ایل میں شرکت کے باوجود ممبئی انڈینز کی جانب سے انہیں صرف آدھا معاوضہ ادا کیا گیا، جبکہ باقی رقم تاحال موصول نہیں ہوئی۔
سینٹنر کندھے کی انجری کے باعث آئی پی ایل سے باہر ہو گئے تھے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ ممبئی انڈینز نے انہیں طے شدہ دو کروڑ بھارتی روپے کے بجائے صرف نصف رقم ادا کی، جس پر انہیں بے حد افسوس ہوا۔
نیوزی لینڈ کے آل راؤنڈر بعد ازاں کندھے کی انجری سے صحت یاب ہو کر انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ سے ایک ہفتہ قبل قومی ٹیم کو دوبارہ جوائن کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
جب ان سے جلد صحت یاب ہو کر قومی ٹیم میں واپسی کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے ادائیگی کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آئی پی ایل کا پہلا میچ اپنے دوسرے بچے کی پیدائش کے باعث نہیں کھیلا۔ واپسی پر انہوں نے دہلی کے خلاف میچ میں شرکت کی، تاہم انجری کا شکار ہو گئے اور ایک ہفتے کے لیے میدان سے باہر رہے۔
Mitchell Santner replied to Indian journalists who accused him of faking injury to play the Test series against England.
— 𝚅𝚊𝚛𝚞𝚗¹⁸ (@varunx18) June 2, 2026
Santner said he also suffered because of that injury as he got only half of the payment. So it s not like he took his full payment but left midway by faking… pic.twitter.com/4hel5jWM1r
انہوں نے مزید کہا کہ واپسی کے بعد دوبارہ انجری کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد وہ گھر واپس چلے گئے۔ سینٹنر کے مطابق دو ہفتوں کے دوران ان کا کندھا دو مرتبہ زخمی ہوا اور انہیں محسوس ہوا کہ وہ اپنے جسم پر ضرورت سے زیادہ بوجھ ڈال رہے ہیں۔
مچل سینٹنر نے کہا کہ انہیں اندازہ تھا کہ مکمل فٹ ہونے میں تقریباً آٹھ ہفتے لگیں گے، لیکن وہ صرف چار ہفتوں میں صحت یاب ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جلد فٹ ہونے کے بعد اب میڈیا میں ان کے بارے میں مختلف باتیں کی جا رہی ہیں۔
مچل سینٹنر نے ممبئی انڈینز کے لیے پانچ میچز کھیلے تھے اور وہ 27 اپریل کو باضابطہ طور پر آئی پی ایل سے باہر ہوئے۔
آئی پی ایل کے قوانین کے مطابق اگر کوئی کھلاڑی لیگ کے دوران زخمی ہو جائے تو اسے نیلامی (آکشن) کے وقت طے شدہ معاہدے کے مطابق معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔
انڈین میڈیا کے مطابق آدھی رقم کی ادائیگی کے حوالے سے ممبئی انڈینز نے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل یا تبصرہ نہیں کیا۔





