محمد یوسف نے 1994 میں جنوبی افریقا کے شہر جوہانسبرگ میں ہونے والی IBSF ورلڈ اسنوکر چیمپئن شپ میں شرکت کی، جہاں وہ نہایت سادہ پس منظر اور محدود سہولیات کے ساتھ میدان میں اترے۔ اس وقت شاید ہی کسی نے تصور کیا ہو کہ یہی کھلاڑی مستقبل میں پاکستان کیلئے بین الاقوامی اعزازات سمیٹے گا۔

انہوں نے اپنی شاندار کارکردگی کے باعث جلد ہی اسنوکر کی دنیا میں اپنی پہچان بنائی اور 1998 میں ایشین اسنوکر چیمپئن شپ جیت کر پاکستان کا نام روشن کیا۔ بعد ازاں 2006 میں محمد یوسف نے ورلڈ ماسٹرز ٹائٹل اپنے نام کر کے ایک اور بڑا اعزاز حاصل کیا، جسے پاکستانی اسنوکر کی تاریخ میں اہم سنگِ میل قرار دیا جاتا ہے۔

محمد یوسف کی کامیابیاں صرف ٹرافیوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ انہوں نے اپنی پوری زندگی اس کھیل کی خدمت میں گزاری۔ آج بھی وہ نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت میں مصروف ہیں اور پاکستان میں اسنوکر کے فروغ کیلئے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں۔

اس کے باوجود محمد یوسف متعدد مواقع پر اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ پاکستان میں اسنوکر کے کھلاڑیوں کو مناسب سہولیات، جدید تربیتی مراکز اور مالی معاونت میسر نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے اس کھیل پر توجہ دیں تو پاکستانی کھلاڑی عالمی سطح پر مزید کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ  محمد یوسف جیسے کھلاڑی نوجوان نسل کیلئے مثال ہیں، جنہوں نے مشکلات کے باوجود ہمت نہیں ہاری اور اپنے ٹیلنٹ کے ذریعے پاکستان کو عالمی سطح پر نمایاں مقام دلایا۔