آسٹریلوی میڈیا رپورٹس کے مطابق کرکٹ آسٹریلیا نے ٹیسٹ کپتان پیٹ کمنز کو ایک بڑے مالیاتی معاہدے کی پیشکش کی ہے تاکہ وہ آئندہ برسوں میں بھی ٹیسٹ کرکٹ کو ترجیح دیتے رہیں۔

 کرکٹ آسٹریلیا نے  پیٹ کمنز کو 3 سالہ معاہدے کے تحت مجموعی طور پر 12 ملین آسٹریلوی ڈالرز کی آفر دی ہے، جس کے تحت انہیں سالانہ تقریباً 4 ملین ڈالرز ملیں گے۔ مجوزہ معاہدے کے مطابق  پیٹ کمنز 2029 تک آسٹریلیا کیلئے ٹیسٹ کرکٹ پر اپنی مکمل توجہ مرکوز رکھیں گے۔

دنیا بھر میں ٹی ٹوئنٹی لیگز کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور بھاری معاوضوں کے باعث کئی بڑے کھلاڑی قومی ذمہ داریوں کے بجائے فرنچائز کرکٹ کو ترجیح دینے لگے ہیں، جس کے پیش نظر کرکٹ آسٹریلیا نے اپنے اہم کرکٹرز کو طویل المدتی معاہدوں کے ذریعے قومی ٹیم کے ساتھ منسلک رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق صرف پیٹ کمنز ہی نہیں بلکہ جارح مزاج بیٹر ٹریوس ہیڈ کے ساتھ بھی مذاکرات جاری ہیں تاکہ وہ تینوں فارمیٹس میں آسٹریلیا کی نمائندگی جاری رکھ سکیں۔

اس کے علاوہ مڈل آرڈر بیٹر مارنوس لبوشین کے ساتھ بھی اسی نوعیت کے تین سالہ معاہدے پر بات چیت جاری ہے۔

کرکٹ آسٹریلیا کے ہیڈ آف کرکٹ جیمز ایلسوپ نے اس حوالے سے کہا کہ آسٹریلیا کے سینئر کھلاڑی اپنی شاندار کارکردگی کے باعث پرکشش معاہدوں کے مستحق ہیں،یہ کھلاڑی کئی برسوں سے مختلف فارمیٹس میں ٹیم کی کامیابیوں میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، اس لیے بورڈ چاہتا ہے کہ انہیں مناسب مالی تحفظ فراہم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کرکٹ آسٹریلیا کی کوشش ہے کہ کھلاڑی قومی ٹیم اور فرنچائز کرکٹ کے درمیان توازن قائم رکھیں، تاہم ٹیسٹ کرکٹ کی اہمیت اور وقار کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا۔

واضح رہے کہ آسٹریلوی ٹیم آئندہ 12 ماہ کے دوران 21 ٹیسٹ میچز کھیلنے جا رہی ہے، جس میں اہم بین الاقوامی سیریز بھی شامل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کرکٹ آسٹریلیا اپنے اہم کھلاڑیوں کی فٹنس، دستیابی اور طویل المدتی وابستگی کو یقینی بنانے کیلئے سرگرم دکھائی دے رہا ہے۔