سلہٹ انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جا رہے میچ میں قومی ٹیم کے کپتان شان مسعود نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، جو ابتدائی مراحل میں درست ثابت ہوا۔ پاکستانی فاسٹ بولرز نے نئی گیند سے تباہ کن اسپیل کرتے ہوئے بنگلادیشی بیٹرز کو سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔
بنگلادیش کی جانب سے اننگز کا آغاز محمود الحسن جوئے اور تنزید حسن نے کیا، تاہم محمد عباس نے پہلے ہی اوور میں پاکستان کو بڑی کامیابی دلادی۔ محمود الحسن دوسری ہی گیند پر بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے، جس کے بعد بنگلادیشی بیٹنگ لائن دباؤ کا شکار ہوگئی۔
اوپنر تنزید حسن نے کچھ مزاحمت کرتے ہوئے 26 رنز بنائے جبکہ کپتان نجم الحسن شنٹو نے 29 رنز کی اننگز کھیل کر ٹیم کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ مومن الحق 22 اور تجربہ کار بیٹر مشفیق الرحیم 23 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
پاکستان کی جانب سے محمد عباس اور خرم شہزاد نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3،3 وکٹیں حاصل کیں۔ دونوں بولرز نے مسلسل درست لائن اور لینتھ کے ذریعے بنگلادیشی بیٹرز کو مشکلات میں رکھا۔ اسپنر ساجد خان نے بھی درمیانی اوورز میں دباؤ برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
دوسرے ٹیسٹ کے لیے قومی ٹیم میں تین اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ امام الحق، شاہین شاہ آفریدی اور نعمان علی کو آرام دیتے ہوئے بابر اعظم، خرم شہزاد اور ساجد خان کو پلیئنگ الیون میں شامل کیا گیا ہے۔ بابر اعظم کی ٹیم میں واپسی نے بیٹنگ لائن کو مزید مضبوط بنایا ہے جبکہ خرم شہزاد نے موقع ملتے ہی عمدہ بولنگ سے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کردیا۔
واضح رہے کہ دو ٹیسٹ میچز کی سیریز میں بنگلادیش کو ایک صفر کی برتری حاصل ہے۔ پہلے ٹیسٹ میں میزبان ٹیم نے پاکستان کو 104 رنز سے شکست دے کر تاریخ ساز کامیابی حاصل کی تھی۔ اس میچ میں پاکستان کو 268 رنز کا ہدف ملا تھا لیکن قومی ٹیم دوسری اننگز میں صرف 163 رنز پر ڈھیر ہوگئی تھی۔
دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کے لیے کامیابی نہایت اہم ہے کیونکہ شکست کی صورت میں قومی ٹیم نہ صرف سیریز ہار جائے گی بلکہ ایشیائی کنڈیشنز میں اس کی کارکردگی پر مزید سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ شائقین کرکٹ کی نظریں اب پاکستانی بیٹرز پر مرکوز ہیں کہ وہ پہلی اننگز میں کس طرح بنگلادیشی بولنگ اٹیک کا مقابلہ کرتے ہیں۔






