میچ میں بنگلہ دیشی ٹیم نے 26 اوورز کے اختتام تک 2 وکٹوں کے نقصان پر 101 رنز اسکور کیے، جبکہ مومن الحق اور کپتان نجم الحسین شانتو کریز پر موجود رہے اور ٹیم کی اننگز کو سنبھالا دیا۔ دونوں بیٹرز نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی بولرز کو زیادہ مواقع نہیں دیے۔
اس سے قبل پاکستان ٹیم کے کپتان شان مسعود نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ پاکستان نے میچ میں نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل متوازن ٹیم میدان میں اتاری ہے۔
پاکستانی ٹیم کو اس اہم ٹیسٹ میں اسٹار بیٹر بابر اعظم کی خدمات حاصل نہیں، جو بائیں گھٹنے کی انجری کے باعث ٹیم سے باہر ہو گئے ہیں۔ ان کی عدم موجودگی میں نوجوان بیٹرز عبداللہ فضل اور اذان اویس کو ٹیسٹ ڈیبیو کا موقع دیا گیا ہے۔
قومی ٹیم میں تجربہ کار فاسٹ بولر محمد عباس کی واپسی بھی ہوئی ہے، جو شاہین شاہ آفریدی اور حسن علی کے ہمراہ فاسٹ بولنگ اٹیک کا حصہ ہیں، جبکہ نعمان علی واحد اسپیشلسٹ اسپنر کے طور پر ٹیم میں شامل ہیں۔
دوسری جانب بنگلہ دیشی ٹیم میں بھی اہم تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ فاسٹ بولر تسکین احمد نے دسمبر 2024 کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کی، وہ انجری کے باعث طویل عرصے تک ٹیم سے باہر رہے تھے۔ ان کے ساتھ عبادت حسین اور نہید رانا فاسٹ بولنگ اٹیک کو مضبوط بنا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: کرپشن جرائم پر چین کے دو سابق وزرائے دفاع کو سزائے موت
اسپن بولنگ کی ذمہ داری مہدی حسن مرزا اور تیج الاسلام کے سپرد کی گئی ہے، جن سے میزبان ٹیم کو بڑی توقعات وابستہ ہیں۔
کرکٹ شائقین کی توجہ اس سیریز پر مرکوز ہے کیونکہ دونوں ٹیمیں حالیہ عرصے میں نوجوان کھلاڑیوں کو مواقع دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، جبکہ یہ سیریز ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے تناظر میں بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔






