ڈھاکا ٹیسٹ کے چوتھے روز کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان آغا کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر یہ کہنا مشکل ہے کہ میچ میں کس ٹیم کا پلڑا بھاری ہے، تاہم پاکستان کی کوشش ہوگی کہ بنگلا دیشی بیٹنگ لائن کو جلد از جلد پویلین واپس بھیجا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر میزبان ٹیم جارحانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے قابلِ حصول ہدف دیتی ہے تو پاکستان مثبت کرکٹ کھیلتے ہوئے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرے گا، البتہ ان کے خیال میں بنگلا دیش شاید اتنا بڑا رسک نہ لے۔
قومی بیٹر نے مزید کہا کہ مختصر اوورز میں 300 کے قریب ہدف حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جبکہ 260 رنز کا ٹارگٹ نسبتاً قابلِ مقابلہ ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: انڈیا کا پاکستان کے ساتھ کسی بھی کھیل کی دوطرفہ سیریز کھیلنے سے انکار
سلمان آغا کے مطابق پاکستان نے میچ کے دوسرے روز شاندار کھیل پیش کیا، بولرز نے جلد وکٹیں حاصل کیں جبکہ بیٹنگ بھی ذمہ دارانہ رہی،موجودہ دور میں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی وجہ سے ٹیمیں ڈرا کے بجائے فتح کیلئے کھیلتی ہیں اور اسی سوچ کے تحت پچز بھی تیار کی جاتی ہیں تاکہ نتیجہ سامنے آئے۔






