تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے فائنل کے دوران پیش آیا، جو اتوار کو احمد آباد میں نیوزی لینڈ قومی کرکٹ ٹیم کے خلاف کھیلا گیا تھا۔

آئی سی سی کے مطابق ارشدیپ سنگھ کو کھلاڑیوں اور پلیئر سپورٹ پرسنل کے لیے بنائے گئے ضابطۂ اخلاق کے آرٹیکل 2.9 کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا۔ اس شق کا تعلق میچ کے دوران گیند یا کرکٹ کے کسی سامان کو نامناسب یا خطرناک انداز میں کسی کھلاڑی کی جانب پھینکنے سے ہے۔

یہ واقعہ نیوزی لینڈ کی اننگز کے 11ویں اوور میں پیش آیا، جب ارشدیپ سنگھ نے اپنی فالو تھرو میں گیند کو فیلڈ کرتے ہوئے جارحانہ انداز میں واپس پھینکا، جو بلے باز ڈیرل مچل کی ٹانگوں سے جا لگی۔

اس خلاف ورزی کے باعث ارشدیپ سنگھ کے تادیبی ریکارڈ میں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ تاہم گزشتہ 24 ماہ کے دوران یہ ان کا پہلا جرم ہے۔ ارشدیپ سنگھ نے میچ ریفری اینڈی پائکرافٹ کی جانب سے تجویز کردہ سزا قبول کر لی، جس کے باعث باضابطہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

اس معاملے میں آن فیلڈ امپائرز رچرڈ الینگ ورتھ اور ایلکس وارف، تھرڈ امپائر اللہ الدین پالیکر اور فورتھ امپائر ایڈرین ہولڈ اسٹاک نے چارج عائد کیا تھا۔

آئی سی سی قوانین کے مطابق لیول ون کی خلاف ورزی پر کم از کم سرکاری تنبیہ اور زیادہ سے زیادہ میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ جبکہ ایک یا دو ڈی میرٹ پوائنٹس دیے جا سکتے ہیں۔ اگر کسی کھلاڑی کے 24 ماہ کے اندر چار یا اس سے زیادہ ڈی میرٹ پوائنٹس ہو جائیں تو وہ معطلی پوائنٹس میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں کھلاڑی پر پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔