امریکی صدر نے جمعرات کے روز سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایرانی قومی فٹبال ٹیم کو ورلڈ کپ میں خوش آمدید کہا جائے گا، موجودہ حالات میں ٹیم کی شرکت مناسب نہیں کیونکہ اس سے کھلاڑیوں کی زندگی اور سلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے حکام نے امریکااور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث فٹبال ٹورنامنٹ میں شرکت نہ کرنے کے امکان کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ رواں برس ہونے والا فیفا ورلڈ کپ 11 جون سے شروع ہوگا۔ ایران کے گروپ مرحلے کے میچز نیوزی لینڈ نیشنل فٹبال ٹیم، بلجیم نیشنل فٹبال ٹیم اور مصری فٹبال ٹیم کے خلاف امریکا میں کھیلے جانے تھے، جن میں لاس اینجلس اور سیئٹل کے میدان شامل ہیں۔
دوسری جانب گیانی انفینٹینو نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی صدر نے انہیں یقین دلایا تھا کہ ایرانی ٹیم کو امریکا میں خوش آمدید کہا جائے گا، فیفا ورلڈ کپ جیسے عالمی ایونٹس دنیا کو متحد کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ انفانٹینو نے گزشتہ برس دسمبر میں ایک امن انعام قائم کیا تھا اور اسے ڈونلڈ ٹرمپ کو دیا تھا، جس پر انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے تنقید بھی کی گئی تھی۔ ناقدین نے فیفا کی سیاسی غیر جانبداری پر سوالات اٹھائے تھے۔
ادھر فیفا کو عالمی تنازعات سے نمٹنے کے معاملے میں بھی تنقید کا سامنا ہے۔ تنظیم نے 2021 میں یوکرین پر حملے کے بعد روس کو مقابلوں سے معطل کر دیا تھا، تاہم غزہ میں جاری جنگ کے باوجود اسرائیل کے خلاف پابندیوں کے مطالبات کو مسترد کیا جاتا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: تیل کی بڑھتی قیمتوں سے امریکا کو فائدہ ہو رہا ہے، ٹرمپ
اگر ایران آئندہ ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کرتا تو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے فیصلہ فیفا کرے گا۔ ٹورنامنٹ کے قواعد کے مطابق اگر کوئی ٹیم دستبردار ہو جائے یا اسے خارج کر دیا جائے تو فیفا اپنی صوابدید کے مطابق کسی دوسری ٹیم کو شامل کر سکتا ہے۔
تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ فیفا کے پاس ایران کی جگہ کسی دوسری ٹیم کو شامل کرنے کے لیے کتنا وقت موجود ہے۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ ایشیا کی وہ ٹیم جو کوالیفائی نہ کر سکی ہو، اسے شامل کر لیا جائے یا گروپ جی کے میچز تین ٹیموں کے درمیان خصوصی قوانین کے تحت کھیلے جائیں۔






