ایران کے سفیر برائے میکسیکو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی ویزا پابندیوں کے باعث ٹیم کو غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہے، ہم صبح داخل ہو سکتے ہیں اور ہمیں اسی دن واپس جانا ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی ورلڈ کپ ٹیم نے موجودہ کشیدہ صورتحال کے باعث امریکہ کی ریاست ایریزونا کے شہر ٹکسن میں تربیتی کیمپ لگانے کا منصوبہ ترک کر دیا ہے اور اس وقت ٹیم میکسیکو میں موجود ہے۔
ایران کی ٹیم کو ورلڈ کپ کے گروپ اسٹیج میں امریکا میں تین میچز کھیلنے ہیں، جن میں سے دو لاس اینجلس (کیلیفورنیا) اور ایک سیئٹل (واشنگٹن) میں کھیلا جائے گا۔
یہ صورتحال امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئی ہے، جس میں حالیہ مہینوں کے دوران عسکری اور سفارتی تناؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
Middle Eastern football teams and players continue to face difficulties while arriving in the U.S.
— Straturka (@straturka) June 7, 2026
IRAQ football STAR Aymen Hussein INTERROGATED for 7 HOURS
Held and questioned before being allowed into US for World Cup.
pic.twitter.com/HTm3737jwS
رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد خطے میں جوابی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہوا، جس کے نتیجے میں خطے میں عدم استحکام میں اضافہ ہوا۔
بعد ازاں ایران کی جانب سے بھی اسرائیل اور خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، جب کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں میں خلل کے باعث عالمی توانائی سپلائی چین بھی متاثر ہوئی۔
اگرچہ بعد میں جنگ بندی عمل میں آ گئی، تاہم دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر کشیدگی اور اعتماد کا بحران بدستور برقرار ہے، جس کے اثرات کھیلوں کے عالمی ایونٹس تک بھی پہنچتے دکھائی دے رہے ہیں۔





