تفصیلات کے مطابق احمد دونیمالی نے ایرانی سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ دشمن حکومت نے ہمارے قائد کو قتل کر دیا، فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے اپنی پوزیشن برقرار نہیں رکھ سکتے۔
Iran will not take part in the 2026 World Cup after the United States—a co-host of the tournament—launched airstrikes alongside Israel, Sports Minister Ahmad Donyamali said on Wednesday.https://t.co/GJXgFP72yW pic.twitter.com/Lhz68Mhou6
— Iran International English (@IranIntl_En) March 11, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ ایک دشمن ملک ورلڈ کپ کی میزبانی کر رہا ہے اور ہم فیفا سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس مسئلے پر ردعمل دے۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ ایرانی ٹیم کے ارکان وہاں محفوظ نہیں ہیں۔
واضح رہے کہ 2026 کا فیفا ورلڈ کپ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو مشترکہ طور پر جون اور جولائی میں منعقد کریں گے۔
اس سے قبل فیفا کے سربراہ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ انہوں نے منگل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، جن کا کہنا تھا کہ ایران کی قومی ٹیم کا ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے خیرمقدم کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر مشترکہ حملے شروع کیے، جن میں آیت اللہ خامنہ ای اور 150 سے زائد اسکول کی طالبات سمیت اب تک تقریباً 1,300 افراد شہید ہو چکے ہیں۔
President Trump told FIFA representatives Tuesday that Iran is welcome to play in the World Cup tournament in the United States, officials told CBS News. https://t.co/1HVPPpHfla
— CBS News (@CBSNews) March 11, 2026
دوسری جانب تہران نے اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ممالک کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون اور میزائل حملے کیے، جو امریکی فوجی اثاثوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور عالمی منڈیوں اور ہوائی سفر میں خلل پیدا کر رہے ہیں۔





