میڈیا رپورٹس کے مطابق راشد خان نے اپنی سوانح عمری میں اس حوالے سے تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2023 کے دوران ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا جب ایک ٹیم آفیشل نے انہیں بتایا کہ بھارتی کرکٹ کی ایک اہم شخصیت ان سے ملاقات کرنا چاہتی ہے۔
راشد خان کے مطابق جب وہ اس شخصیت سے ملے تو گفتگو کے دوران انہیں بھارت میں رہائش اختیار کرنے اور وہاں کی شہریت دینے کی پیشکش کی گئی۔ اس موقع پر انہیں یہ بھی کہا گیا کہ وہ بھارت میں رہ کر کرکٹ کھیلیں کیونکہ افغانستان کی صورتحال سازگار نہیں۔
افغان کرکٹر نے بتایا کہ وہ اس پیشکش پر حیران رہ گئے، تاہم انہوں نے نہایت شائستگی سے شکریہ ادا کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ اپنے ملک افغانستان کی نمائندگی جاری رکھیں گے۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ اس نوعیت کی پیشکشیں صرف بھارت تک محدود نہیں تھیں بلکہ آسٹریلیا کی جانب سے بھی انہیں شہریت اور کرکٹ کھیلنے کی پیشکش کی گئی تھی تومیں نے دونوں ممالک کو ایک ہی جواب دیا کہ اگر اپنے وطن کے لیے نہیں کھیل سکتا تو کسی اور ملک کی نمائندگی بھی نہیں کروں گا۔
مزید پڑھیں: لیونل میسی نے بارسلونا کا فٹبال کلب خرید لیا
راشد خان نے 2018 کا ایک واقعہ بھی یاد کیا جب وہ آئی پی ایل میں سن رائزرز حیدرآباد کی نمائندگی کر رہے تھے۔ کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے خلاف شاندار کارکردگی کے بعد بھارتی سوشل میڈیا پر انہیں شہریت دینے کے مطالبات سامنے آئے، جو ان کی غیر معمولی مقبولیت کا ثبوت تھے۔
دوسری جانب راشد خان نے اپنی ذاتی زندگی کی ایک خوشی بھی مداحوں کے ساتھ شیئر کی، سوشل میڈیا پر اپنے بیٹے کی پیدائش کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے نومولود کا نام ازلان خان رکھا ہے۔ایک خوبصورت تصویر کے ساتھ اپنے پیغام میں لکھا کہ وہ اپنے بیٹے کی آمد پر بے حد خوش ہیں اور مداحوں سے دعا کی درخواست کی۔ اس اعلان کے بعد کرکٹ شائقین اور ساتھی کھلاڑیوں کی جانب سے مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
واضح رہے کہ راشد خان کی جانب سے وطن سے وفاداری کا یہ اظہار سوشل میڈیا پر بھی خوب سراہا جا رہا ہے، جہاں مداح ان کے اس فیصلے کو قابلِ فخر قرار دے رہے ہیں۔






