میچ کے ابتدائی دو دنوں میں مجموعی طور پر 33 وکٹوں کے گرنے، غیر متوقع اور ناہموار باؤنس، اور گیند کے بار بار اچانک نیچے بیٹھ جانے کے واقعات نے پچ کے معیار پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسی صورتحال میں بلے بازوں کے لیے تکنیکی طور پر خود کو سنبھالنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
میچ کا سب سے نمایاں لمحہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب انگلینڈ کے بلے باز جیکب بیتھل نیوزی لینڈ کے فاسٹ باؤلر میٹ ہنری کی ایک ایسی گیند پر بولڈ ہوئے جو غیر معمولی طور پر نیچی رہی اور تقریباً زمین پر رینگتی ہوئی وکٹوں سے جا ٹکرائی۔ اس منظر نے کمنٹری باکس میں موجود ماہرین کو بھی حیران کر دیا۔
سابق انگلش فاسٹ باؤلر اسٹیورٹ براڈ نے کہا کہ جیکب بیتھل کے پاس اس گیند کو کھیلنے کا کوئی موقع ہی نہیں تھا کیونکہ گیند غیر معمولی طور پر نیچے رہی اور تقریباً زمین پر رگڑ کھاتی ہوئی آئی۔
سابق انگلش کپتان مائیکل ایتھرٹن نے کہا کہ پچ پر باؤنس میں کوئی تسلسل موجود نہیں، جس کے باعث ایل بی ڈبلیو ہونے کے امکانات غیر معمولی طور پر بڑھ گئے ہیں۔ ان کے مطابق میریلیبون کرکٹ کلب کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ لارڈز کے اسکوائر میں ایک بنیادی مسئلہ موجود ہے، کیونکہ گزشتہ سال بھی انگلینڈ اور بھارت کے میچ میں پچ کے معیار پر سوالات اٹھے تھے۔
کرکٹ قوانین کے مطابق اگر کسی پچ کو خطرناک یا ناقص قرار دیا جائے تو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اسے منفی ریٹنگ دے سکتی ہے، جس کے بعد متعلقہ میدان کو مستقبل میں بین الاقوامی میچوں کی میزبانی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
لارڈز کو دنیا کے سب سے تاریخی اور باوقار کرکٹ گراؤنڈز میں شمار کیا جاتا ہے، اسی لیے اس کی پچ پر اٹھنے والی یہ تنقید عالمی کرکٹ حلقوں میں خاصی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔





