ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم آئندہ چند ہفتوں میں کنیکٹیویٹی پلان لانچ کریں گے اور فائیو جی کی لانچنگ سے قبل تمام ضروری تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیلی کام سیکٹر میں دو بڑی کمپنیوں کا انضمام بھی ہو چکا ہے۔
یہ بات انہوں نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام کے اجلاس کے دوران بتائی، جو چیئرمین سید امین الحق کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
اجلاس کے ایجنڈے میں فحاشی اور بے حیائی کی روک تھام سے متعلق ڈیجیٹل میڈیا بل 2025 پر بحث شامل تھی، جو رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمان نے پیش کیا۔
وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل مواد سے متعلق پہلے ہی قوانین اور ریگولیٹری اتھارٹیز موجود ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ ان قوانین کو مزید مؤثر اور مضبوط بنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ عالمی سوشل میڈیا کمپنیوں کے دفاتر پاکستان میں نہ ہونے کی وجہ سے ریگولیشنز پر عملدرآمد ممکن نہیں۔
ان کے مطابق عالمی کمپنیوں کے وفود پاکستان کا دورہ کرتے ہیں اور مقامی قوانین پر عملدرآمد سے متعلق بات چیت ہوتی رہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا قیدیوں کی سزا میں دو ماہ کی خصوصی معافی کا اعلان
اجلاس کے دوران چیئرمین قائمہ کمیٹی نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ادارے کو اپنی ذمہ داریاں درست انداز میں ادا کرنی چاہئیں۔
کمیٹی رکن علی قاسم گیلانی نے کہا کہ ایک معروف یوٹیوبر کی این سی سی آئی اے سے متعلق ویڈیو سب نے دیکھی ہے، جس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ این سی سی آئی اے کے ساتھ مل کر ڈیجیٹل میڈیا قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ بعد ازاں رکن قومی اسمبلی شاہدہ رحمان نے فحاشی اور بے حیائی کی روک تھام کا ڈیجیٹل میڈیا بل 2025 واپس لے لیا۔
اجلاس میں کمیٹی رکن احمد عتیق نے تجویز دی کہ تین سے چار ارکان پر مشتمل ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ساتھ مل کر مسائل کا حل نکالا جا سکے۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ قائمہ کمیٹی کے تمام ارکان پی ٹی اے کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں اور پی ٹی اے کو اپنے بارہ زونل دفاتر میں فوکل پرسن مقرر کرنے چاہئیں۔ اجلاس کے دوران ملک بھر میں کمزور موبائل سگنلز اور سست انٹرنیٹ پر اراکین نے شدید سوالات اٹھائے۔
کمیٹی رکن پولین نے کہا کہ اگر پی ٹی اے موبائل سگنلز فراہم نہیں کر سکتی تو عوام کہاں رجوع کریں۔
رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی اے کس بنیاد پر کوالٹی آف سروس کے سروے کرتی ہے اور ان رپورٹس کو تھرڈ پارٹی سے کرایا جانا چاہیے، کیونکہ پی ٹی اے کی رپورٹ میں 99 فیصد تسلی بخش نتائج سمجھ سے بالاتر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت نے وفاقی ٹیکس محتسب ظفرالحق حجازی سے عہدے کا حلف لے لیا
اس موقع پر چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پی ٹی اے سرکاری اداروں میں کارکردگی کے لحاظ سے سرفہرست رہی اور شکایات کے ازالے میں نمایاں کارکردگی دکھائی۔
اجلاس میں سی ای او نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ فیصل اقبال رتیال نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سرکاری ملازمین کے محفوظ رابطوں کے لیے بیپ ایپلیکیشن تیار کر لی گئی ہے، جسے تمام متعلقہ ایجنسیوں نے سرٹیفائی کر دیا ہے، جب کہ نیشنل سرٹ نے بھی اسے محفوظ قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیپ ایپلیکیشن وٹس ایپ سے بہتر اور زیادہ فیچرز کی حامل ہے، اس میں ویڈیو کالز بھی مکمل طور پر انکرپٹڈ ہیں، جب کہ وٹس ایپ پر صرف میسجنگ انکرپٹڈ ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بیپ ایپلیکیشن کو پہلے مرحلے میں وزارتوں میں لانچ کیا جائے گا اور آئندہ دو ماہ میں اسے باضابطہ طور پر متعارف کروا دیا جائے گا۔
بیپ ایپلیکیشن کے استعمال کی فیس مقرر کی جائے گی اور اسے خود کفیل بنانے کی کوشش کی جائے گی، جب کہ اسے ای آفس سسٹم کے ساتھ بھی منسلک کیا جائے گا۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ این آئی ٹی بی کی بہتر کارکردگی کے باوجود وفاقی سطح پر پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا زیادہ نظر آنا سوالیہ نشان ہے۔
سیکرٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے بند ہونے کی افواہوں کے باعث ادارے کی کارکردگی متاثر ہوئی، تاہم اب این آئی ٹی بی دوبارہ متحرک ہو چکا ہے اور اس کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔
اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ پانچ سالہ کنیکٹیویٹی پلان پر عملی کام جاری ہے اور وزارت کے ذیلی اداروں کے فنڈز کے استعمال پر مؤثر چیک اینڈ بیلنس کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔





