یہ بات پیر کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں بتائی گئی۔

اجلاس کی صدارت سینیٹر خالدہ عتیب خالدہ عتیب نے کی، جبکہ سینیٹر دانش کمار دانش کمار، سینیٹر سید مسرور احسن سید مسرور احسن اور وزارتِ صنعت و پیداوار وزارتِ صنعت و پیداوار اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے حکام نے شرکت کی۔

کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس لگانے پر غور جاری ہے، جبکہ ملک میں تیار کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس انتہائی کم یا صفر رکھا جائے گا تاکہ مقامی صنعت کو سہولت دی جا سکے۔ حکام کے مطابق ایسے ای وی پرزہ جات جن کی تیاری اب مقامی سطح پر ہو رہی ہے، ان کی درآمد پر اضافی ڈیوٹیز عائد کر دی گئی ہیں تاکہ اندرونِ ملک مینوفیکچرنگ کو فروغ ملے۔

وزارتِ صنعت و پیداوار نے صوبائی حکومتوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ الیکٹرک گاڑیوں پر رجسٹریشن فیس وصول نہ کریں، ملک بھر میں یکساں نمبر پلیٹس متعارف کرائیں اور ای وی پر ٹول ٹیکس میں بھی نرمی کریں۔

اجلاس کے دوران حکام نے الیکٹرک موٹر سائیکلوں، رکشوں اور دیگر گاڑیوں کی تیاری سے متعلق موجودہ پالیسی پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بتایا گیا کہ اب تک تین پہیوں والی گاڑیوں کے لیے 17 جبکہ دو پہیوں والی گاڑیوں کے لیے 77 لائسنس جاری کیے جا چکے ہیں۔

کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک ملک میں 30 فیصد گاڑیاں الیکٹرک ہوں۔ اس مقصد کے لیے سبسڈی کے تحت 22 لاکھ الیکٹرک گاڑیاں فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ حکام کے مطابق اس وقت ملک میں تقریباً 2 کروڑ گاڑیاں اور 2 کروڑ سے زائد موٹر سائیکلیں موجود ہیں، جبکہ رواں سال ایک لاکھ 16 ہزار موٹر سائیکلیں اور 3 ہزار 170 الیکٹرک رکشے عوام کو فراہم کیے جائیں گے۔

سینیٹ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ آئندہ پانچ برسوں میں کاربن لیوی کے ذریعے 120 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے، جو مکمل طور پر الیکٹرک گاڑیوں کی سبسڈی پر خرچ کیے جائیں گے۔ حکام نے بتایا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ بورڈ آف انویسٹمنٹ کے تعاون سے ون ونڈو آپریشن پر کام جاری ہے، جبکہ وہ مینوفیکچررز جو برآمدات نہیں کر رہے تھے، ان کے لائسنس منسوخ کر دیے گئے ہیں۔

اجلاس میں نیو انرجی وہیکلز پالیسی 2025-30 پر بھی بریفنگ دی گئی، جس کا مقصد گاڑیوں سے پیدا ہونے والی آلودگی میں کمی، فضائی معیار کی بہتری، بجلی کی اضافی پیداواری صلاحیت کا بہتر استعمال اور تیل کی درآمدات میں کمی لانا ہے۔ پالیسی کے تحت مقامی نیو انرجی وہیکلز انڈسٹری کے قیام، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ماحول دوست روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دی گئی ہے، جبکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان ہم آہنگی بڑھانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

پالیسی کے مطابق 2030 تک نئی فروخت ہونے والی 30 فیصد موٹر سائیکلیں، رکشے، کاریں، بسیں اور ٹرک نیو انرجی وہیکلز ہوں گے، جبکہ 2040 تک یہ شرح 50 فیصد تک لے جانے اور 2060 تک نیٹ زیرو ٹرانسپورٹ فلیٹ حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ پاکستان میں ای وی اپنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی زیادہ ابتدائی قیمت ہے، جسے کم کر کے روایتی پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کے قریب لانے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے، جیسا کہ خطے اور دنیا کے دیگر ممالک میں کیا جا رہا ہے۔