عالمی سائبر سیکیورٹی کمپنی کی تازہ رپورٹ کے مطابق یہ کاروبار ان حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں جو جائز ٹیکنالوجی کے استعمال کو غلط طریقے سے بروئے کار لا کر اپنا پتہ چھپاتے ہیں۔
تاہم ان کاروباروں کے پاس نہ تو مطلوبہ مالی وسائل ہیں اور نہ ہی تربیت یافتہ عملہ، جس کے باعث وہ جدید سیکیورٹی نظام نافذ کرنے میں دشواری کا سامنا کر رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس صورت حال کے پیش نظر کمپنی نے اپنی نئی پروڈکٹ لائن کیسپرسکی نیکسٹ کے تحت دو سیکیورٹی حل متعارف کرائے ہیں جنہیں کیسپرسکی نیکسٹ ایکس ڈی آر آپٹیمم اور کیسپرسکی نیکسٹ ایم ایکس ڈی آر آپٹیمم کہا جاتا ہے۔
ان سیکیورٹی حملوں کو خاص طور پر ان کاروباروں کے لیے تیار کیا گیا ہے جن کا آئی ٹی نظام محدود ہے اور سیکیورٹی پر خرچ کرنے کا بجٹ کم ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ دونوں حل جدید ٹیکنالوجی پر مبنی خودکار دفاع، خطرات کی نشاندہی اور ان کے تدارک کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ نظام کاروباروں کو کم لاگت میں اپنی سیکیورٹی مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں اور سائبر حملوں کے باعث ممکنہ مالی نقصان سے بچاتے ہیں۔

کمپنی کے مطابق کیسپرسکی نیکسٹ ایکس ڈی آر آپٹیمم چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کے لیے موزوں ہے جو مستحکم انفرااسٹرکچر رکھتے ہیں۔
یہ حل مصنوعی ذہانت پر مبنی خطرات کا پتہ لگانے، ان کا تجزیہ کرنے اور فوری ردعمل دینے کی سہولت دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ حل کلاؤڈ یا اپنے اندرونی نظام پر نصب کیا جا سکتا ہے، جس سے کاروباروں کو سہولت اور لچک دونوں میسر آتی ہیں۔
واضع رہے کہ ابھی تک حکومتی سطح پر اس حوالے سے کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سائبر سیکیورٹی پالیسیوں پر ازسرنو غور کرنے اور چھوٹے کاروباروں کو خصوصی تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے






