احسن اقبال نے کہا کہ طالب علموں کو شروع سے کائنات کے مطالعے کی طرف موڑنا چاہیے۔ آج دنیا کے ہر ملک میں خلا میں زیادہ سے زیادہ جگہ بنانے کی دوڑ لگی ہے۔ ہمیں ایسے انسان چاہئیں جن کی سوچ یہ ہو کہ ہمیں نئی ایجادات کرنی ہیں اور اپنے ملک کو ٹیکنالوجی میں آگے لے جانا ہے۔
وفاقی وزیر نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اسپیس سائنس میں دلچسپی لیں، اس شعبے میں ہم پیچھے ہیں اور ہمیں اس کمی کو پورا کرنا ہے۔ چار سے 10 اکتوبر کو پوری دنیا میں اسپیس ویک منایا جاتا ہے، لہٰذا اس سال تمام صوبوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس حوالے سے تقریبات منعقد کریں۔
احسن اقبال نے کہا کہ ہم پر ایک ذمہ داری ہے جو ہمیں پوری کرنی ہے۔ اسلامی تحقیق کا سنہرہ دور تھا جب مسلمان سائنسدانوں نے سائنسی تحقیق میں دسترس حاصل کی۔ ہم نے تحقیق کی روایت چھوڑ دی اور دوسروں کے علم پر منحصر ہو گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آج مسلمانوں کو سب سے زیادہ ضرورت ہے کہ وہ علم و تحقیق کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑیں۔ لوگوں کو تشدد کی طرف راغب کرنے والے عالم نہیں چاہئیں بلکہ ایسے عالم چاہئیں جو اس ملک کی تاریخ کو یاد دلائیں اور علم و تحقیق کی طرف راغب کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں جن کی سوچ ایک دوسرے کی مسجدوں پر قبضہ کرنے کی ہو۔ ہمیں کہا گیا ہے کہ اہلِ کائنات کی تخلیق پر غور و فکر کریں، مگر آج کون غور و فکر کرتا ہے؟ آپ زندگی کا کوئی بھی شعبہ اٹھا لیں، ان سب کے پیچھے اسپیس سگنلز، سیٹلائٹ کا کردار موجود ہے۔






