اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یہ سہولت پہلے انسٹاگرام پر دستیاب تھی اور اب اسے فیس بک اور میسنجر پر بھی پاکستان سمیت دنیا بھر میں توسیع دی جا رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق وہ دنیا بھر میں کروڑوں نوجوان صارفین کو ان ٹین اکاؤنٹس میں شامل کر چکی ہے۔
میٹا نے اپریل میں کہا تھا کہ امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا اور برطانیہ میں بھی فیس بک اور میسنجر پر نجی چیٹ سروسز کے لیے یہ سہولت فراہم کی گئی ہے۔
ٹین اکاؤنٹس میں ایسے خودکار نظام شامل کیے گئے ہیں جو اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ کم عمر نوجوان کن افراد سے بات کر رہے ہیں، کس قسم کا مواد دیکھ رہے ہیں اور ان کا وقت کس طرح صرف ہو رہا ہے۔ ان حفاظتی فیچرز کو والدین کے سب سے بڑے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔

میٹا کے مطابق 16 سال سے کم عمر صارفین کے لیے ان حفاظتی پابندیوں کو والدین کی اجازت کے بغیر ختم نہیں کیا جا سکتا۔
میٹا کا کہنا ہے کہ ٹین اکاؤنٹس سے والدین کو اس بات پر اعتماد حاصل ہو رہا ہے کہ ان کے بچے سوشل میڈیا پر محفوظ انداز میں وقت گزار رہے ہیں۔
گزشتہ برسوں میں نوعمر افراد کے سوشل میڈیا کے استعمال پر تحفظات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ماہرین کے مطابق کم عمر افراد کی جانب سے اسکرین پر زیادہ وقت گزارنے سے ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
واضع رہے کہ تاحال حکومت یا متعلقہ اداروں کی جانب سے اس اقدام پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم ماہرین کے مطابق یہ فیچر والدین کے لیے اطمینان کا باعث بن سکتا ہے اور سوشل میڈیا کے استعمال کو محفوظ بنانے میں معاون ہو سکتا ہے۔






