قاہرہ کے مضافات میں گیزا کے مشہور اہرام کے قریب واقع اس میوزیم میں 50 ہزار سے زائد نوادرات رکھے گئے ہیں جو قدیم مصر کی تاریخ، تہذیب اور طرزِ زندگی کو بیان کرتے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق مصری ایوانِ صدر کا کہنا ہے کہ افتتاحی تقریب میں عالمی رہنما، بادشاہ اور سربراہانِ مملکت نے شرکت کی۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ میوزیم قدیم مصریوں کی ذہانت اور جدید مصریوں کی تخلیقی صلاحیتوں کا امتزاج ہے، جو عالمی ثقافت و فنون میں ایک نیا سنگِ میل ثابت ہوگا۔

یہ منصوبہ ان متعدد میگا پراجیکٹس میں سے ایک ہے جنہیں السیسی نے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد شروع کیا، تاکہ 2011 کی عرب بہار کے بعد متاثرہ معیشت کو بحال کیا جا سکے۔

افتتاحی تقریب سے قبل قاہرہ بھر میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی تھی اور ہفتے کو عام تعطیل قرار دیا گیا۔ میوزیم، جو محدود دوروں کے لیے پہلے کھلا ہوا تھا، تقریب سے دو ہفتے قبل تیاریوں کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔

ایک ارب ڈالرز کی لاگت سے تیار ہونے والا یہ منصوبہ کئی بار تاخیر کا شکار ہوا۔ اس کی تعمیر 2005 میں شروع ہوئی تھی، لیکن سیاسی عدم استحکام کے باعث کام بارہا رکا۔

میوزیم کا شیشے سے بنا بلند مثلثی ڈھانچہ قریبی اہراموں کی طرز پر تیار کیا گیا ہے۔ اس کی 24 ہزار مربع میٹر نمائش گاہ میں داخل ہوتے ہی زائرین کا استقبال فرعون رامسیس دی گریٹ کے دیوقامت گرینائٹ مجسمے سے ہوتا ہے۔

مرکزی ایٹریئم سے چھ منزلہ عظیم سیڑھی مختلف گیلریوں تک جاتی ہے، جن میں قدیم مصری مجسمے، اشیائے استعمال اور تاریخی نوادرات نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں۔

میوزیم میں ایک پیدل پل بھی بنایا گیا ہے جو اسے اہرامِ مصر سے جوڑتا ہے، جہاں سیاح برقی گاڑیوں کے ذریعے بھی سفر کر سکیں گے۔

میوزیم کی 12 مرکزی گیلریاں قدیم سے رومی ادوار تک کے نوادرات پر مشتمل ہیں، جب کہ دو خصوصی ہال بادشاہ توتنخمون کے پانچ ہزار نوادرات کے لیے مختص ہیں۔

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع ہے جب کنگ ٹٹ کے تمام آثار ایک ہی مقام پر نمائش کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں، جن میں سونے کا تخت، رتھ، سرکوفگس اور مشہور تدفینی ماسک شامل ہیں۔